تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 286
اسلام کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس امر کا ثبوت کہ اس آیت اور اس کے بعد کی آیتوں میں کمزور ایمان والوں کا ذکر ہے جو کمزوری ئِ ایمان کی وجہ سے قومی کاموں میں جرأت سے حصہ نہیں لے سکتے اور وقت پر کمزوری دکھا جاتے ہیں یہ ہے کہ پہلی آیات میں تو منافقوں کے آگ جلانے کا ذکر ہے مگر ان آیات میں منافقوں کے آگ جلانے کا ذکر نہیں بلکہ آسمانی سامانوں کے ظہور کا ذکر ہے۔پہلی مثال میں یہ ذکر ہے کہ روشنی کے وقت منافقوں کا نور جاتا رہا اور اس میں یہ ذکر ہے کہ روشنی ہو تویہ لوگ سنبھل جاتے ہیں اور چلنے لگ جاتے ہیں۔پھر پہلی مثال میں تو یہ ذکر ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں لیکن اس مثال میں جن لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کی نسبت یہ فرماتا ہے کہ خدا تعالیٰ چاہتا تو انہیں بہرے اور اندھے کر دیتا مگر اب تک وہ ایسے ہوئے نہیں۔ہاں !ان کی یہ حالت قائم رہی تو بہرے اور اندھے ہو جائیں گے اسی طرح پہلی مثال میں بتایا تھا کہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور دوسری مثال والوں کی نسبت یہ بتایا ہے کہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے بلکہ ڈر کے مارے مصیبت کے وقت ان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔بعض لوگوں کا آیت ھٰذا میں اَوْ کے لفظ سے ایک غلط استدلال اور اس کا ردّ بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس آیت سے پہلے جو اَوْ کا لفظ آیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقوں پر یا پہلی مثال چسپاں ہوتی ہے یا دوسری۔اس عبارت سے شک ظاہر ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کو شک نہیں ہو سکتا پس یہ کلام انسان کا ہے۔یہ اعتراض معترضین کے قلت تدبرّ پر دلالت کرتا ہے کیونکہ شک پر تو یہ آیت اس صورت میں دلالت کرتی اگر اس کا یہ مطلب ہوتا کہ ہم کہہ نہیں سکتے کہ منافقوں کی حالت وہ ہے جو پہلے بیان ہوئی یا یہ ہے جو ہم اب بیان کرتے ہیں۔مگر اس آیت میں تو کوئی ایسا لفظ نہیں جس سے یہ مطلب نکلتا ہو۔اَوْ کا لفظ بیشک استعمال ہوا ہے جس کے معنے ’’یا‘‘ اور ’’اور‘‘ دونوں کے ہوتے ہیں اور ان دونو ںمعنوں میں سے کوئی بھی اس جگہ لئے جائیں ان سے شک کا اظہار نہیں ہوتا۔اگر اس کے معنے ’’اور‘‘ کے کئے جائیں تو بھی اس کے یہ معنے ہوں گے کہ منافقوں کے گروہ پر وہ مثال بھی صادق آتی ہے اور یہ بھی یعنی ان کے دو گروہ ہیں ایک پر پہلی مثال صادق آتی ہے اور دوسرے پر دوسری اور اگر اَوْکے معنے یا کے کئے جائیں تو بھی اس کے یہ معنے ہوں گے کہ منافقوں کی یا تو وہ حالت ہے جو اوپر بیان ہوئی اور یا پھر یہ حالت ہے جو ہم اب بیان کر رہے ہیں یعنی ان میں سے ایک گروہ کی وہ حالت ہے اور ایک کی یہ۔آیت ھٰذا میںاَوْ تقسیم یا مطلق جمع کے لئے ہے حلِّ لُغَات میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ اَوْ کا لفظ علاوہ