تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 285

قوت حیوانیہ اور رُوح کا جسم سے علیحدہ ہو جانا موت کہلاتا ہے۔اَنْوَاعُ الْمَوْتِ بِحَسْبِ الْحَیٰوۃِ۔موت کئی قسم کی ہوتی ہے جس قسم کی زندگی ہو گی اسی کے مطابق موت ہو گی۔(۱) فَالْاَوَّلُ۔مَاھُوَ بِـاِزَاءِ الْقُوَّۃِ النَّامِیَّۃِ الْمَوْجُوْدَۃِ فِی الْاِنْسَانِ وَالْحَیَوَانَاتِ وَالنَّبَاتِ۔انسان۔حیوانات اور نباتات میں نشوونما کا رُک جانا موت کہلاتا ہے جیسے يُحْيِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا(الروم :۲۰) میں اشارہ فرمایا ہے (۲) اَلثَّانِیْ۔زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْحَاسَّۃِ احساس کا زوال بھی موت کہلاتا ہے جیسے حضرت مریم علیھا السّلام کا قول يٰلَيْتَنِيْ مِتُّ قَبْلَ هٰذَا (مریم :۴ ۲) ہے کہ اے کاش میں اس سے پہلے کی بے حس ہو چکی ہوتی (۳) زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْعَاقِلَۃِ زوال عقل یعنی جہالت بھی موت کہلاتی ہے جیسے اَوَ مَنْ كَانَ مَيْتًا فَاَحْيَيْنٰهُ (الانعام :۱۲۳) (۴) اَلرَّابِعُ۔الْحُزْنُ الْمُکَدِّرَۃُ لِلْحَیٰوۃِ۔ایسے غم جو زندگی کو دوبھر کر دیں جیسے فرمایا يَاْتِيْهِ الْمَوْتُ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ وَّ مَا هُوَ بِمَيِّتٍ(ابراہیم :۱۸) (۵) اَلْخَامِسُ۔اَلْمَنَامُ نیند (مفردات) لسان میں ہے وَقَدْ یُسْتَعَارُ الْمَوْتُ لِلْاَحْوَالِ الشَّاقَّۃِ کَالْفَقْرِ وَالذُّلِّ وَالسُّؤَالِ وَالْھَرَمِ وَالْمَعْصِیَۃِ۔کبھی موت کا لفظ استعارۃً تکلیف دِہ حالتوں پر بھی جیسے فقر۔ذ لّت۔سوال۔بڑھاپا اور معصیت ہیں بولا جاتا ہے۔وَاللّٰہُ۔وَاللّٰہُ وائو اس جگہ حالیہ ہے یعنی جب کفار خدا کی گرفت تلے آ گئے ہیں اور تباہ ہونے والے ہیں پھر اُن سےڈرنا حماقت نہیں تو اور کیا ہے؟ چونکہ وائو حالیہ ہے اس لئے ترجمہ’’حالانکہ‘‘ کیا گیا ہے۔مُحِیْطٌ۔مُحِیْطٌ اَحَاطَ سے اسم فاعل ہے۔اَحَاطَ بِالْاَمْرِ کے معنے ہیں۔اَحْدَقَہٗ مِنْ جَوَانِبِہٖ۔اس کو تمام طرفوں سے گھیر لیا۔(اقرب) پس محیط کے معنے (ہوں گے) گھیرنے والا۔تفسیر۔آیت اَوْ كَصَيِّبٍالخ میں عملی منافقوں کا ذکر اس آیت میں دوسری قسم کے منافقوں کا ذکرہے جو دل سے کافر نہ تھے مگر کمزوری ایمان کی وجہ سے قربانیوں کے مطالبہ یا دشمن کے حملہ کے وقت گھبرا جاتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی سزا کی نسبت بندوں کی سزا سے زیادہ خائف تھے اس لئے ایسے اوقات میں کفار کو خوش کرنے کے لئے ان سے مخفی تعلق رکھتے اور ایسی باتیں کرتے جس سے وہ ان کو اپنا خیر خواہ سمجھیں یا بعض خبریں مسلمانوں کی ان کو دیتے اور دل میں یہ سمجھ لیتے کہ اسلام سچا مذہب ہے ہماری اس کمزوری سے اسلام کو حقیقی نقصان تو پہنچ نہیں سکتا پھر کیا حرج ہے اگر ہم اس طرح اپنے آپ کو تکلیف سے بچا لیں؟ اسلام جیسے قربانی والے مذہب میں ایسے لوگوں کی بھی گنجائش نہیں اس لئے ابتدائِ قرآن میں ہی ایسے لوگوں کو بھی کھول کر بتا دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو منافق ہی سمجھتا ہے اور منافقوں والا سلوک ان سے کرے گا۔اسلام تو سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے قربان کر دینے کا نام ہے جو اس رنگ میں مخلصانہ تعلق نہیں پیدا کر سکتا اسے ان انعامات کی امید نہیں رکھنی چاہیے جو