تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 284
کے لئے گرجا اَلرَّعْدُ کے معنے ہیں۔صَوْتُ السَّحَابِ۔بادل کی آواز یعنی کڑک (اقرب) ُلغوی معنے رَعْدٌ کے بادلوں کے گرجنے اور گرجنے کی آواز کے ہیں۔آیت ہذا میں زبردست احکام۔تباہی کی خبروں۔وعید کی پیشگوئیوں اور احکام جنگ کو رَعْدٌ یعنی کڑک سے تشبیہ دی گئی ہے۔اَلْبَرْقُ۔اَلْبَرْقُ وَمِیْضُ السَّحَابِ۔بادل کی چمک (اقرب) لغوی طور پر برق چمکتی بجلی کو کہتے ہیں۔آیت ہذا میں اس سے مراد لڑائی کے نظارے ہیں یا کھلی کھلی علمی باتیں، صداقت کے نشانات یا مالِ غنیمت و اسلامی فتوحات۔یَجْعَلُوْنَ۔یَجْعَلُوْنَ جَعَلَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔جَعَلَہٗ (یَجْعَلُ) جَعْلًا کے معنے ہیں صَنَعَہٗ اُس کو پیدا کیا۔چنانچہ انہی معنوں میں جَعَلَ اللّٰہُ الظُّلُمَاتِ وَالنُّوْرَ استعمال ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اندھیروں اور روشنی کو پیدا کیا۔جَعَلَ الشَّیْئَ کے ایک معنی وَضَعَہٗ کے ہیں یعنی اس کو کسی جگہ رکھا۔نیز جَعَلَ کبھی ظَنَّ کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے چنانچہ کہتے ہیں جَعَلَ الْبَصْرَۃَ بَغْدَادًا اَیْ ظَنَّہَا اِیَّا ھَا کہ فلاں شخص نے بصرہ کو بغداد خیال کر لیا۔بعض اوقات جَعَلَ کے معنے شَرَعَ کے ہوتے ہیں۔چنانچہ کہتے جَعَلَ یَنْشُدُ مرادیہ ہوتی ہے کہ اس نے شعر خوانی شروع کر دی (اقرب) اس آیت میں جَعَلَ وَضَعَ کے معنے میں استعمال ہوا ہے۔اس لئے یَجْعَلُوْنَ کے معنے یہ کئے گئے ہیں کہ ڈال لیتے ہیں۔الصَّوَاعِقُ۔الصَّوَاعِقُ اَلصَّاعِقَۃُ کی جمع ہے اور اَلصَّاعِقَۃُ کے معنے ہیں اَ لْمَوْتُ۔موت۔کُلُّ عَذَابٍ مُھْلِکٍ۔ہر مہلک عذاب۔صَیْحَۃُ الْعَذَابِ۔عذاب کی آواز۔نَارٌ تَسْقُـطُ مِنَ السَّمَآءِ فِیْ رَعْدٍ شَدِیْدٍ لَا تَمُرُّ عَلٰی شَیْ ءٍ اِلَّا اَحْرَقَتْہُ وہ آگ جو بادل سے کڑک کے ساتھ نازل ہوتی ہے اور جس چیز پر گرے اُسے جلا دیتی ہے (یعنی گرنے والی بجلی) (اقرب) اَلصَّاعِقَۃُ۔ھِیَ الصَّوْتُ الشَّدِیْدُ مِنَ الْجَوِّ ثُمَّ یَکُوْنُ مِنْہُ نَارٌ فَقَطْ اَوْ عَذَابٌ اَوْ مَوْتٌ وَھِیَ فِیْ ذَاتِھَا شَیْئٌ وَّاحِدٌ وَھٰذِہِ الْاَشْیَآئُ تَأْثِیْرَاتٌ مِّنْھَا۔صَاعِقَہ اس ہولناک گرج اور آواز کو کہتے ہیں جو فضاء سے پیدا ہوتی ہے پھر اس سے کبھی تو آگ واقع ہوتی ہے یا عذاب یا موت نازل ہوتی ہے۔حَذَرَ۔اَلتَّحَرُّزُ وَ مُجَانَبَۃُ الشَّیْءِ خَوْفًا مِّنْہُ کسی چیز سے بچنا اور خوف کے ڈر سے علیحدہ رہنا۔(اقرب) اَلْمَوْتُ۔اَلْمَوْتُ زَوَالُ الْحَیَاۃِ عَمَّنْ اِتَّصَفَ بِھَا۔اس چیز سے زندگی کا علیحدہ ہو جانا جو زندگی کے ساتھ متصف ہو (اقرب) مفردات میں ہے اَلْمَوْتُ زَوَالُ الْقُوَّۃِ الْحَیَوَانِیَّۃِ وَاِبَانَۃُ الرُّوْحِ عَنِ الْجِسْمِ۔