تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 279

اسلام کا نورانی جُبّہ جو منافقوں نے پہن رکھا تھا۔اللہ تعالیٰ نے اتار لیا یعنی کفار کو فتح تو ملی نہیں الٹا ان کا نفاق ظاہر ہو گیا کیونکہ جب وہ مسلمانوں کی امداد سے دستکش ہو گئے اور لڑائیوں میں شامل نہ ہوئے تو ان کے اسلام کے دعویٰ کی قلعی کھل گئی اور جو مسلمان غلطی سے ان پر ُحسن ظنیّ رکھتے تھے ان پر کھل گیا کہ یہ لوگ منافق ہیں اور اسلام سے ان کو کوئی لگائو نہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ اسلام کی ترقی نے منافقوں کی حقیقت کو آشکار کر دیا۔کیونکہ جوں جوں دین کامل ہوتا جاتا ہے اور نورِ الٰہی ترقی کرتا جاتا ہے۔شریعت کے احکام بڑھتے جاتے ہیں اور منافقوں کے لئے اس پر عمل کرنا زیادہ سے زیادہ دو بھر ہوتا جاتا ہے اور ان کی منافقت کا بھانڈا پھوٹ جاتا ہے۔اور نور کا لباس ان سے ِچھن جاتا ہیں۔تَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّایُبْصِرُوْنَکا مطلب تَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّایُبْصِرُوْنَ سے یہ بتایا ہے کہ جنگ کی آگ تو انہوں نے اس لئے جلائی تھی کہ اس کی بھڑکتی آگ سے فائدہ اٹھائیں گے اور پھر اپنی شوکت قائم کریں گے۔مگر ہوا یہ کہ نفاق کے کھل جانے کے سبب سے اور بھی اندھیرے میں جا پڑے یعنی حیران رہ گئے کہ اب کیا کریں یا یہ کہ نفاق کی مرض اور بھی ترقی کر گئی۔آگ کے معنے اگر اسلام کے کئے جائیں تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ چونکہ انہوں نے خود اسلام کو بلوایا اور پھر اس سے اعراض کیا اللہ تعالیٰ نے ان کو اس نور سے بھی محروم کر دیا جو فطرت ِصحیحہ کے ذریعہ سے ہر انسان کو ملتا ہے اور ان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا کہ نہ خدا تعالیٰ کے الہام کا نور ان کے پاس رہا اور نہ فطرۃ صحیحہ کی ہدایت ان کے ساتھ رہی۔آیت ھٰذا میں آگ جلانیوالے کیلئے مفرد کی ضمیر اور پھر اس کے بعد جمع کی ضمیر رکھنے کی وجہ بعض لوگ اس آیت پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ آگ جلانے والے ایک شخص کا ذکر ہے لیکن بعد میں ضمیر جمع کی آئی ہے اس کا کیا مطلب؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں آگ جلانے والے کے لئے اَلَّذِی کا لفظ آیا ہے اور اَلَّذِیعربی میں مفرد، تثنیہ اور جمع تینوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ جائز ہے کہ کبھی تو اس کی طرف لفظ کی رعایت سے مفرد کی ضمیر پھیری جائے اور کبھی مراد کے لحاظ سے اگر وہ جمع ہو جمع کی ضمیر پھیری جائے چنانچہ ہَمْعُ الْہَوَامِعْ میں جو امام سیوطی کی علْمِ نحو میں نہایت اعلیٰ کتاب ہے لکھا ہے کہ اخفش کہتا ہے اَلَّذِیْ کَمَنْ یَّکُوْنُ لِلْوَاحِدِ وَالْمُثَنّٰی وَالْجَمْعِ بِلَفْظٍ وَاحِدٍ۔اَلَّذِیْبھی مَنْ کی طرح ہے اس سے واحد مثنیٰ اور جمع تینوں کی طرف اشارہ کرنا جائز ہوتا ہے۔پھر اخفش کی روایت سے ایک مصرعہ لکھا ہے ؎ اُولٰٓئِکَ اَشْیَاخِی الَّذِیْ تَعْرِفُوْنَھُمْ