تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 277
ہے وہ تو اعتقادی کافر ہیں۔یعنی دل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِکَ جھوٹا سمجھتے ہیں اور ان کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ۔وہ ہر گز مومن نہیں۔ایسے لوگوں کو امت رسول اللہؐ کس طرح کہا جا سکتا ہے؟ پس اِس حدیث میں اس آیت سے ملتے جلتے ہوئے الفاظ بے شک ہیں لیکن اس میں ان منافقوں کا ذکر نہیں بلکہ امت کے بعض گنہگاروں کا ذکر ہے جو عقیدۃً تو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں لیکن پورا تقویٰ نصیب نہ ہونے کی وجہ سے اعمال میں کمزور ہوتے ہیں۔میرے نزدیک اِس آیت میں منافقوں کی حالت بیان کی گئی ہے کہ پہلے تو انہوں نے خود آگ جلائی مگر جب اس آگ کا نور پھیل گیا تو بینائی سے محروم ہو گئے اور اس سے فائدہ نہ حاصل کر سکے۔آگ جلانے سے یہاں مراد اسلام کو مدینہ میں بلوانا ہے۔جب رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں آنے کی دعوت دی گئی تو اس میں سب ہی اہل مدینہ شامل تھے اور یہ منافق بھی سب کی ہاں میں ہاں ملا رہے تھے مگر جب اسلام کی روشنی پھیل گئی تو ان کے دلوں کے بغضوں اور کینوں نے انہیں حسد پر مجبور کر دیا اور آخر بینائی بھی کھو بیٹھے۔یہ ایک روحانی حقیقت ہے کہ جب انسان راستہ کو قبول کر کے پیچھے ہٹتا ہے تو جو نیکی کا مقام اسے پہلے حاصل تھا اسے بھی کھو بیٹھتا ہے۔آگ سے مراد الٰہی تعلیم اور نشانات آگ سے الٰہی تعلیم اور آسمانی نشانات کا مراد لینا قرآن کریم کی دوسری آیات سے ثابت ہے چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ جب وہ مدین سے واپس آرہے تھے تو انہوں نے الٰہی تجلی کو آگ کی شکل میں دیکھا۔چنانچہ فرماتا ہے اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا (القصص :۳۰) انہوںنے طو ُرکی جانب ایک آگ دیکھی۔پھر آگے ذکر ہے کہ جب وہ اس آگ کے پاس آئے۔تو انہیں آواز آئی کہ يٰمُوْسٰۤى اِنِّيْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (القصص :۳۱) اے موسیٰ! مَیں یقینا اللہ سب جہانوں کا ربّ ہوں۔پس آگ کا لفظ تجلی ّا لٰہی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور یہاں بھی یہی مراد ہو سکتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ پہلے تو ان لوگوں نے آگ جلائی یعنی اللہ تعالیٰ کی تجلیّ کو یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں بلوایا مگر بعد میں حسد کرنے لگ گئے۔اور آپ کے ساتھ وابستگی کے فوائد سے محروم رہ گئے۔منافقوں کے آگ جلانے سے مراد قرآن کریم میں ایک اور جگہ بھی الٰہی کلام کے نزول کو نار سے تشبیہ دی گئی ہے اور وہ یہ ہےيَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ (النور:۳۶) یعنی فطرۃ صحیحہ کا تیل ایسی اعلیٰ طاقت رکھتا ہے کہ الہام کی آگ سے روشن ہونے کے بغیر بھی جلنے کے قریب ہوتا ہے۔یعنی گو جلتا تو الہام کی آگ سے ہی ہے مگر استعداد کے لحاظ سے وہ بھڑکنے کے قریب ہوتا ہے۔