تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 269
اَللّٰهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ يَمُدُّهُمْ فِيْ طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُوْنَ۰۰۱۶ اللہ انہیں( ان کی) ہنسی کی سزا دے گا اور انہیں ان کی سرکشیوں میں بہکتے ہوئے چھوڑ دے گا۔حَل لُغَات۔یَمُدُّھُمْ۔یَمُدُّ مَدَّسے مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور مَدَّہٗ فِیْ غَیِّہٖ کے معنے ہیں اَمْھَلَہٗ وَطَوَّلَ لَہٗ اس کو کسی بات میں مہلت دی اور اس کی میعاد کو لمبا کیا۔(اقرب) تاج میں ہے مَدَّہٗ فِی الْغَیِّ وَالضَّلَالِ: اَمْلٰی لَہٗ وَ تَرَکَہٗ اس کو گمراہی میں پڑا رہنے دیا اور اس میں چھوڑ دیا۔پس یَمُدُّھُمْ کے معنے ہوں گے وہ انہیں چھوڑ دے گا۔ان کو رہنے دے گا۔طُغْیَانِـھمْ۔طُغْیَانٌ مصدر ہے طَغِیَ یَطْغٰی یا طَغٰی یَطْغِیْ کی۔اور اس کے علاوہ طَغًی اور طُغْیَانًا کی صورت پر بھی اس کی مصدر آتی ہے۔طَغٰی کے معنے ہیں جَاوَزَ الْقَدْرَ وَالْحَدَّ اندازہ اور حدّ سے بڑھ گیا۔طَغَی الْکَافِرُ۔غَلَا فِی الْکُفْرِکفر میں زیادہ بڑھ گیا۔طَغٰی فُـلَانٌ۔اَسْرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ وَالظُّلْمِ گناہ اور ظلم میں حد سے بڑھ گیا۔طَغَی الْمَاءُ۔اِرْتَفَعَ پانی اونچا ہو گیا۔طغیانی اور سیلاب آ گیا۔(اقرب) یَعْمَھُوْنَ: عَمـَہَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔کہتے ہیں عَمَہَ الرَّجُلُ جس کے معنے ہیں تَرَدَّدَ فِی الضَّلَالِ وَتَحَیَّرَ فِیْ مُنَازَعَۃٍ اَوْ طَرِیْقٍ وہ شخص گمراہی کی حالت میں حیران پھرتا رہا یا جھگڑے یا راستہ میں حیران رہ گیا کہ اصل حقیقت یا اصل راستہ کونسا ہے اور یہ بھی محاورہ ہے کہ جب کسی کو کوئی دلیل نہ سوجھے یا بات نہ آئے تو اس حالت کو بھی عَمَہٌ کہتے ہیں۔جیسا کہ لکھا ہے اَلْعَمَہُ اَنْ لَّایَعْرِفَ الْحُجَّۃَ یعنی عَمَہَ کے یہ معنے ہیں کہ انسان کو دلیل نظر نہ آئے۔اس کا اسم فاعل عَامِہٌ ہے۔اور اس کی جمع عُمَّہٌ اورصیغہ مبالغہ عَمِہٌ ہے۔جس کی جمع عَمِھُوْنَ آتی ہے۔عَمِیَ کا لفظ جو قرآن کریم میں آتا ہے اور جس سے اَعْمٰی کا لفظ بنا ہے اس کے معنے بھی اندھے پن کے ہیں مگر زمخشری کا قول ہے کہ وہ عَمَہٌ سے عام ہے۔اَعْمٰی اس شخص کو کہتے ہیں جو آنکھ یا عقل کا اندھا ہو مگر عَامِہٌ صرف اُس کو کہتے ہیں جو عقل کا اندھا ہو۔آنکھ کے اندھے کو عَامِہٌ نہیں کہتے۔(اقرب) پس معنے یہ ہوئے کہ اپنی ظالمانہ زیادتیوں میں سرگردان پھرتے ہیں اور پھرتے رہیں گے۔اور ان کی عقلیں ماری ہوئی ہیں اور ماری رہیں گی۔تفسیر۔اللہ تعالیٰ کی طرف لفظ استہزاء منسوب کرنے کا مطلب اللہ تعالیٰ اُن سے استہزاء کرے گا کے یہ معنے نہیں جیسا کہ بعض معترضین قرآن کریم نے سمجھا ہے کہ نعوذ باللہ مسلمانوں کا خدا استہزاء کرتا ہے بلکہ اس جگہ جزائے جرم کے لئے جرم کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو عربی زبان کا عام قاعدہ ہے اور