تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 268
یہی وہ لوگ تھے جو منافقوں کو اکسانے والے تھے اور مسلمانوں کی ترقیوں کو دیکھ کر جلتے اور حق سے دور تھے۔مسلمانوں سے جھگڑتے رہتے اور ان کاموں میں مشغول تھے جو ان کی ہلاکت کا باعث تھے۔شیطان سے یہاں ابلیس مراد لینا صحیح نہیں اور نہ اس لفظ کے استعمال سے یہود اور مسیحیوں کے رئوساء کو گالی دی گئی ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں اَلرَّا کِبُ شَیْطَانٌ وَالرَّاکِبَانِ شَیْطَانَانِ وَالثَّلٰـثَۃُ رَکْبٌ یعنی سفر کی مصیبتو ںکی صورت میں اکیلا سفر کرنے والا، اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے والا ہے۔دو کا بھی یہی حال ہے تین ہوں تو مشکلات سے بچ سکتے ہیں۔مخالفین اسلام کے لئے شیاطین کے لفظ کے استعمال پر مخالفین کاایک اعتراض اور اس کا جواب مسیحی معترضین مرقس باب ۸ آیت ۳۳ ملاحظہ کریں۔’’پر اس نے پھر کے اور اپنے شاگردوں پر نگاہ کر کے پطرس پر جھنجھلایا اور کہا اے شیطان میرے سامنے سے دور ہو۔‘‘ اسی طرح متی باب ۲۳۔آیت ۳۳ ملاحظہ ہو جہاں مسیح نے اپنے مخالف فقیہوں اور فریسیوں کو کہا ہے ’’اے سانپو اور اے سانپوںکے بچو تم جہنم کے عذاب سے کیونکر بھاگو گے۔‘‘ نیز متی باب ۳ آیت ۷ بھی ملاخطہ ہو جہاں لکھا ہیں۔’’پر جب اس نے دیکھا کہ بہت سے فریسی اور صدوقی بپتسمہ پانے کو اُس پاس آئے ہیں تو انہیں کہا کہ اے سانپو کے بچو تمہیں آنے والے غضب سے بھاگنا کس نے سکھلایا۔‘‘ انجیل میں ان حوالوں کی موجودگی کے باوجود مسیحیوں کا شیطان کے لفظ پر اعتراض کرنا جو گالی کے طور پر نہیں بلکہ محض ایک حقیقت کے اظہار کے لئے عربی محاورہ کے مطابق استعمال ہوا ہے سخت تعجب انگیز ہے۔شیاطین کے معنے یہودیوں کے سرداروں کے شیطان کے جو معنے َمیں نے کئے ہیں وہ صحابہؓ اور اکابر علماء سے بھی ثابت ہیں۔ابن جریر حضرت ابن عباسؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ اِذَا خَلَوْا اِلٰی شَیٰطِیْنِہِمْ مِنَ الْیَھُوْدِ الَّذِیْنَ یَاْ مُرُوْنَہُمْ بِالتَّکْذِیْبِ یعنی شیاطین سے منافقوں کے دوست یہودی مراد ہیں جو انہیں تکذیب اسلام کی تعلیم دیا کرتے تھے۔اسی طرح ابن جریر قتادہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ کے معنے ہیں اِخْوَانُھُمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ یعنی ان کے مشرک بھائی۔اِسی طرح ابن جریر مجاہد کا قول نقل کرتے ہیں۔اَصْحَابُھُمْ مِنَ الْمُنٰـفِقِیْنَ وَالْمُشْرِکِیْن یعنی ان کے منافق اور مشرک دوست۔اسی طرح ابنِ جریر نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا قول نقل کیا ہے کہ شیاطین سے مراد رُءُ وْسُھُمْ فِی الْکُفِرْ یعنی ان کے کافر سردار مراد ہیں۔مُسْتَهْزِءُوْنَ۠ بصیغہ اسم فاعل جو دوام اور ہمیشگی کا فائدہ دیتا ہے۔منافق یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے جب بھی ملتے ہیں استہزاء کے طورپر ہی ملتے ہیں۔