تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 265
ڈرتے ہیں کہ مسلمانوں کو شکست ہوئی تو انجام کیسا بُرا ہو گا! پس قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ فتح کے سامان پیدا کر دے یا اور کوئی ایسا امر ظاہر کر دے کہ یہ منافق ان خدشات کی وجہ سے جو اُن کے دلوں میں پیدا ہو رہے ہیں شرمندہ ہو جائیں۔اصل بات یہ ہے کہ فتح تو بہادروں اور قربانی کرنے والوں کا حق ہوتا ہے اور مومن دنیا میں سب سے بہادر ہوتا ہے کیونکہ اس کی نظر آسمان کی طرف ہوتی ہے نہ کہ زمین پر۔جو قوم بھی سچی قربانی سے ڈرتی ہے تباہ ہوتی ہے۔جو اپنے مالوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں وہی انہیں ضائع کرتے ہیں جو انہیں صحیح طور پر خرچ کرتے ہیں ان کے مال ہزاروں گنے بڑھ کر واپس آتے ہیں۔آخر آیت میں فرمایا کہ اصل میں یہی لوگ اپنے اموال اور جانوں کا نقصان کر رہے ہیں کیونکہ نہ کفار نے فتح پانی ہے کہ ان کے ساتھ تعلق ان کے لئے مفید ثابت ہو اور نہ مسلمانوں نے ہارنا ہے کہ ان سے بگاڑ ا نہیں فائدہ پہنچا سکے۔لیکن چونکہ یہ آئندہ کی بات ہے یہ جانتے نہیں اور خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں کہ اس کی پیشگوئیوں کے ذریعہ سے اس حقیقت کو سمجھ سکیں حالانکہ اگر جانتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ اس طریق عمل سے اپنے مالوں اور جانوں کو خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔ایک دوسری آیت میں اس کی تشریح اس طرح فرمائی ہے۔فرماتا ہے۔وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ(التوبة:۸۵) یعنی منافق لوگ اپنے مالوں اور اپنی اولادوں پر ناز کرتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ان کے مال بھی محفوظ ہیں اور جانیں بھی کیونکہ وہ اپنی اولادوں کو جہاد پر جانے نہیں دیتے لیکن مسلمان ان کے اس فخر سے دھوکہ نہ کھائیں کیونکہ گو بظاہر وہ مالدار ہیں اور بظاہر ان کی اولادیں گھروں میں آرام سے بسر کر رہی ہیں لیکن خدا تعالیٰ انہیں ان کے مالوں اور ان کی اولادوں کے ذریعہ سے اسی دنیا میں عذاب دے گا اور دنیا میں ذلیل ہو جانے کے بعد ایک دن کفر کی حالت میں یہ اس دنیا سے چل بسیں گے۔یہ آیت منافقوں کے سردار عبداللہ بن ابی بن سلول پر خوب صادق آئی۔وہ اپنی سب کوششوں کو نامراد ہوتے دیکھ کر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی دیکھ کر آپ کی زندگی میں ہی وفات پا گیا اور اس کا بیٹا نہایت مخلص ثابت ہوا جو اس کے لئے مزید ذ لت اور دکھ کا موجب تھا۔