تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 262

سَفِیْہٌ۔رَدِیُّ النَّسْجِ۔اَلسَّفَہُ کے معنے ہیں۔بدن میں ہلکا پن کا پایا جانا۔اس واسطے اونٹ کی ایسی مہار کو جو ہلکا ہونے کی وجہ سے بہت حرکت کرے زَمَامٌ سَفِیْہٌ کہتے ہیں۔اور ایسا کپڑا جو ناقص طور پر بنا ہوا ہو اور وہ بہت کم قیمت سمجھا جائے اسے ثَوْبٌ سَفِیْہٌ کہتے ہیں۔وَاسْتُعْمِلَ فِیْ خِفَّۃِ النَّفْسِ وَ نُقْصَانِ الْعَقْلِ وَفِی الْاُ مُوْرِ الدُّنْیَوِیَّۃِ وَالْاُخْرَوِیَّۃِ۔اور دینی یا دنیوی امور میں سمجھ اور عقل نہ ہونے کی وجہ سے جو نفس میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے۔اس پر بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے (مفردات) لسان العرب میں ہے کہ جب سَافَھْتُ الشَّرَابَ کا فقرہ بولیں تو معنے یہ ہوں گے۔اِذَا اَسْرَفْتُ فِیْہِ کہ میں نے شراب کے خرچ کرنے میں اسراف سے کام لیا۔پس سَفِیْہٌ کے معنے ہوں گے (۱) خفیف العقل (۲) جاہل (۳) جس کی رائے میں اضطراب ہو۔استقامت نہ ہو (۴) ایسا شخص جو دینی و دنیوی عقل عمدہ نہ رکھتا ہو (۵) جس کی رائے کی کچھ قیمت نہ ہو (۶) جو شخص اپنی قیمتی اشیاء کو بے سوچے خرچ کر دے۔یَعْلَمُوْنَ۔لَایَعْلَمُوْنَ عَلِمَ سے مضارع منفی جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے۔اور عَلِمَہٗ (یَعْلَمُہٗ) کے معنے تَیَقَّنَہٗ وَعَرَفَہٗ کسی چیز کا یقین کر لیا اور اس کو جان لیا۔جب سمجھنے کے معنوں میں استعمال ہو تو اس وقت اس کے دو مفعول آئیں گے اور اگر معرفت کے معنوں میں استعمال ہو تو ایک۔عَلِمَ الْاَمْرَ کے معنے ہیں اَتْقَنَہٗ کسی کام کو مضبوط کیا۔عَلِمَ الشَّیْءَ وَ بِالشَّیْءِ: شَعَرَبِہٖ وَاَحَاطَہٗ وَاَدْرَکَہٗ کسی چیز کی پوری واقفیت حاصل کر لی۔اس کی حقیقت کا احاطہ کر لیا۔اس کا پورا علم حاصل کر لیا۔اور اَلْعِلْمُ کے معنے ہیں اِدْرَاکُ الشَّیْ ءِ بِحَقِیْقَتِہٖ کسی چیز کی حقیقت کو معلوم کر لینا (اقرب) پس لَایَعْلَمُوْنَ کے معنے ہوں گے۔وہ حقیقت کو نہیں جانتے۔تفسیر۔گو اس آیت میں صیغہ مجہول کا استعمال کیا گیا ہے مگر گزشتہ آیات کو دیکھتے ہوئے کہنے والے مسلمان ہی معلوم ہوتے ہیں۔اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ جب مسلمان ان منافقوں سے کہتے ہیں کہ جس طرح دوسرے شریف آدمی ایمان لائے ہیں او راپنے عہد کے پکے ہیں تم بھی اسی طرح ایمان لائو۔یہ کیا کہ کبھی اِدھر اور کبھی اُدھر۔دل میں کچھ اور زبان پر کچھ۔تو منافق اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جن لوگوں کی طرح ایمان لانے کا تم ہم کو مشورہ دیتے ہو وہ تو کم عقل ہیں اور اپنی جانوں اور مالوں کو بے دریغ لٹا رہے ہیں۔کیا تم چاہتے ہو کہ ہم بھی ان کی طرح بے عقل ہو جائیں۔ایک مٹھی بھر آدمی ہیں اور ساری دنیا سے مقابلہ شروع کر رکھا ہے۔ان کو چاہیے تھا کہ سمجھ سے کام لیتے اور سب سے تعلقات بنا کر رکھتے جس طرح ہم سب سے تعلق بنا کر رکھتے ہیں۔حَلِّ لُغَات میں بتایا جا چکا ہے کہ سَفِـیْـہٌ جس کی جمع سُفَھَآءُ ہے۔سَفَہَ سے نکلا ہے اور اس کے معنے