تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 256
کیونکہ اپنے قومی راز غیروں کو بتائے بغیر وہ ان میں مقبول نہیں ہو سکتا۔اس آیت میں بیماری کا بڑھانا اللہ تعالیٰ کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ یہ اسی کے احکام اور قوانین کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے اور لوگوں کے اعمال پر نیک و بد نتائج بھی وہی مرتب فرماتا ہے۔ورنہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کسی کی بیماری کے بڑھانے کے لئے نازل نہیں فرمایا بلکہ لوگوں کی بیماری کے دور کرنے کیلئے بھیجا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ (یونس :۵۸) یعنی اے لوگو ! تمہارے پاس ایک ایسی کتاب آئی ہے جو دل پر اثر کرنے والی نصائح پر مشتمل ہے اور سینہ کی سب بیماریوں کے لئے شفاء ہے۔یہ مرض جس کا اس آیت میں ذکر ہے قوتِ فیصلہ کا نہ ہونا بزُدلی اور نفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِيْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى يَوْمِ يَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا يَكْذِبُوْنَ(التوبۃ:۷۷) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی وعدہ خلافی اور جھوٹ کا یہ انجام دکھایا کہ اُن کے دلوں میں نفاق پیدا ہو گیا۔(۲) اللہ تعالیٰ کے مرض بڑھا دینے سے ایک یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ جوں جو ںمسلمانوں کو ترقی دیتا اور اُن کی طاقت بڑھاتا گیا منافقو ںکو اپنے دلی عقیدے کے خلاف ان کے ساتھ تعلقات قائم رکھنے کی وجہ سے اور زیادہ نفاق سے کام لینا پڑا۔حالانکہ دراصل اسلام کی شوکت اُن کو ایک آنکھ نہ بھاتی تھی۔اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ (آل عمران :۱۲۱) اگر تمہیں کوئی آرام پہنچتا ہے تو ان (منافقوں) کو تکلیف ہوتی ہے۔دوسرے شریعت اسلامی آہستہ آہستہ نازل ہوئی پس جوں جوں احکام اور مسائل بڑھتے گئے منافقوں کا نفاق بھی بڑھتا جاتا تھا اور ان کی جلن اور گھبراہٹ اور بزدلی میں اضافہ ہوتا جاتا تھااللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِيْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَيْتَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يَّنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْ (محمّد:۲۱) یعنی جب کوئی محکم آیات نازل ہوتی ہیں اور ان میں لڑائی کا ذکر ہوتا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کہ کسی پر موت کی غشی طاری ہو۔پہلی آیات میں کفار کی نسبت فرمایا تھا وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔اس آیت میں منافقوں کی نسبت فرمایا ہے کہ وَلَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ یعنی اُن کے لئے درد ناک عذاب ہے۔اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ کافر کو خواہ کس قدر عذاب ملتا ہو وہ مقابلہ کر کے اپنے دل کا بخار نکال لیتا ہے اور اس طرح بدلہ لینے سے جو انسان کو