تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 253

مدینہ کے لوگوںکو اس حالت کا احساس پیدا ہوا اور انہو ںنے اپنی حالت پر غور کرنا شروع کیا۔آخر بعض لوگوں نے یہ تجویز کی کہ اس فتنہ کے سدِّباب کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم کی جائے اور اپنے میں سے کسی شخص کو بادشاہ تجویز کر لیا جائے۔یہ خیال زور پکڑ گیا اور مدینہ کے مشرک لوگ ایک بادشاہ کے انتخاب پر متفق ہو گئے آخر ایک شخص عبداللہ ابن ابی ابن سلول پر جو َخزرَج قبیلہ کا ایک رئیس تھا سب کا اتفاق ہوا۔عام رواج کے مطابق اس کے لئے ایک تاج بنوانے کا بھی فیصلہ ہوا۔مگر ابھی تاج بنوانے کی تیاری ہو رہی تھی کہ ان تک اسلام کی آواز پہنچ گئی اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی مشکلات کا علاج اسلام ہے نہ کہ بادشاہت اور وہ جیساکہ اوپر لکھا جا چکا ہے آخر کار مسلمان ہو گئے۔مدینہ کے بعض لوگوں کے منافقت اختیار کرنے کی وجہ قوم کا شدید اخلاص اسلام کی طرف دیکھ کر عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی بھی اس کا مقابلہ نہ کر سکے اور اس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ اسلام کی حکومت کے قیام سے ان کی حکومت بالکل جاتی رہے گی۔لیکن جب اسلامی نظام قائم ہوا تو ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ اب کسی خاص دنیوی وقار کی تمنا ّایک خواب پریشان ہو چکی ہے۔چنانچہ اس احساس کے بعد جو خفیف سا لگائو بھی اسلام سے تھا جاتا رہااور اسلام کی مخالفت دل میں پیدا ہو گئی۔مگر اِدھر قوم کی بڑی اکثریت اسلام کی شیدا ہو چکی تھی اس وجہ سے ظاہر میں یہ لوگ اسلام سے باہر بھی نہ نکل سکتے تھے۔نتیجہ یہ ہوا کہ ظاہر میں تو یہ لوگ مسلمان بنے رہے مگر اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں شروع کیں۔ابتدا میں تو سابق عادت کے مطابق یہود سے مخفی دوستی گانٹھ کر اسلام کو نقصان پہنچانے کی تجویزوں میں مشغول ہوئے اور کفار مکہ سے تعلق پیدا نہ کیا کیونکہ قومی تعصبات کی وجہ سے وہ ان سے تعلق پیدا کرنے کو پسند نہ کرتے تھے حتٰی کہ اُحد کی جنگ کے موقع پر منافقین کفارِ مکہ کا مقابلہ کرنے کےلئے مسلمانوں کے ساتھ جانے کے لئے تیار ہو گئے تھے لیکن رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعض احکام سے ناراض ہو کر راستہ میں سے واپس لوٹ آئے (سیرت ابن ہشام۔غزوۃحمد۔انخذال المنافقین ) اس کے بعد یہود کی انگیخت کی وجہ سے اور مسلمانو ںکی بڑھتی ہوئی طاقت سے متاثر ہو کر انہو ںنے اپنے پرانے قومی تعصب کو بھی بھلا دیا اور کفار مکہ سے بھی ساز باز شروع کر دی مگر پھر بھی ظاہری تعلقات کو قائم رکھنے کے لئے ان کے سردار مختلف جنگوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتے رہتے تھے گو ہمیشہ مسلمانوںکوباہم لڑوانے کے منصوبے کرتے رہتے تھے۔منافقین کے منصوبے اور ان کا انجام قرآن کریم کے متعدد مقامات پر ان منافقوں کا ذکر آتا ہے۔ان کی آخری شرارت وہ تھی جو انہوں نے فتح مکہ کے بعد کفار مکہ کی طاقت سے مایوس ہو کر قیصر کی حکومت سے ساز باز