تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 242 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 242

یَشْعُرُوْنَ۔یَشْعُرُوْنَ شَعَرَسے مضارع جمع غائب کا صیغہ ہے اور شَعَرَہٗ کے معنے ہیں عَلِمَ بِہٖ اس کو جانا۔شَعَرَ لِکَذَا: فَطَنَ لَہٗ۔اس کو خوب سمجھ لیا۔عَقَلَہٗ۔اس کو جان لیا۔وَاَحَسَّ بِہٖ۔اس کو محسوس کیا (اقرب) تاج العروس میں ہے اَلشِّعْرُ ھُوَا لْعِلْمُ بِدَقَائِقِ الْاُمُوْرِ وَ قِـیْلَ ھُوَ الْاِدْرَاکُ بِالْـحَـوَاسِّ کہ شعر علم کی وہ قسم ہے جس کے ذریعہ سے امور کی باریکیاں معلوم ہو سکیں۔اور بعض نے کہا ہے کہ حواس کے ذریعہ سے کسی امر کو معلوم کر لینا شِعر کہلاتا ہے۔نیز لکھا ہے کہ لَایَشْعُرُوْنَ کی جگہ لَایَعْقِلُوْنَ استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ اکثر اوقات ایک چیز معقول تو ہوتی ہے لیکن محسوس نہیں ہوتی۔شعور اور علم میںیہ فرق ہے کہ شعور ایک ِحسّ باطنی کے متعلق ہے جو بلا سامان ظاہری بھی اپنا کام کرتی ہے لیکن علم بیرونی چیزوں سے حاصل ہوتا ہے۔ممکن ہے علم کا اثر قلب پر نہ ہو لیکن شعور کا بالضرور ہوتا ہے۔پس وَ مَا یَشْعُرُوْنَ کے معنے ہوں گے۔وہ سمجھتے نہیں۔تفسیر۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان وہی کار آمد ہوتا ہے جو نیک نیتی اور اخلاص اور صداقت پر مبنی ہو جس ایمان میں اخلاص نہیں وہ کسی کام کا نہیں کیونکہ وہ تو دھوکا ہے اور خدا تعالیٰ جو عالم الغیب ہے وہ دھوکا کب کھا سکتا ہے؟ اس آیت پر بعض اعتراضات کئے جاتے ہیں جن کا ذکر اس جگہ ضروری ہے۔وہ اعتراض یہ ہیں (۱) اللہ تعالیٰ کو کوئی دھوکا کب دے سکتا ہے ؟(۲) اگر دھوکا دینے کے قصد کے معنے کئے جائیں تو اللہ تعالیٰ کو مان کر کوئی شخص اسے دھوکا دینے کا قصد ہی کب کر سکتا ہے؟ (۳) اس جگہ یُخَادِعُوْنَ کے الفاظ ہیں اور خَادَعَ باب مفاعلہ سے ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اس فعل میں دونوں فریق شریک ہیں او ران معنوں کے لحاظ سے آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ منافق خدا تعالیٰ کو دھوکا دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان کو دھوکا دیتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف دھوکے کی نسبت کرنا اس کی ہتک ہے۔ان اعتراضات کا جواب علی الترتیب یہ ہے۔(۱) پہلا اعتراض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کوئی شخص دھوکا کب دے سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ (ا ) اس جگہ خَادَعَ کا لفظ ہے خَدَعَکا نہیں اور خَادَعَ کے معنے عربی زبان میں دھوکا دینے کے نہیں بلکہ دھوکا دینے کا قصد کرنے کے ہیں خواہ دوسرا دھوکا کھائے یا نہ کھائے۔جیسا کہ حَلِّ لُغَات میں بتایا جاچکا ہے پس یہ اعتراض اس آیت پر نہیں پڑ سکتا کہ خدا تعالیٰ کو کوئی دھوکا کیونکر دے سکتا ہے؟ (ب) اگر دھوکا دینے کے معنے بھی کئے جائیں تب بھی کوئی اعتراض نہیں پڑتا کیونکہ اس صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ایسا معاملہ کرتے ہیں کہ جو دھوکے کے مشابہ ہوتا ہے یعنی اس میں صداقت اور اخلاص نہیںہوتا اور یہ امر مشاہدہ سے ثابت ہے کہ بعض