تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 238 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 238

کےلئے بھی اور وہ لوگ جو یومِ آخرۃ پر ایمان لاتے ہیں وہ اس کتاب پر بھی ضرور ایمان لاتے ہیں اور وہ اپنی نمازوں میں بھی بہت باقاعدہ ہیں۔اب دیکھو !اس آیت میں کس طرح واضح کر دیا گیا ہے کہ ایمان بالآخرۃ ایمان بالقرآن کا مستلزم ہے اور جو قرآنِ کریم پر ایمان لائے گا لازماً اُسے محمد رسول اللہ پر بھی ایمان لانا ہو گا۔کیونکہ آپؐ ہی کے ذریعہ سے قرآنِ کریم دنیا کو ملا ہے۔اسی طرح اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ پر ایمان بھی یومِ آخر میں شامل ہے کیونکہ جو قرآنِ کریم کو مانے گا وہ ملائکہ کا انکار کر ہی نہیں سکتا کیونکہ اس میں بار بار ملائکہ کا ذکر کیا گیا ہے بلکہ اس آیت میں تو یہ امر بھی زائد کر دیا گیا ہے کہ یومِ آخر پر ایمان میں اعمال صالحہ بھی شامل ہیں۔کیونکہ فرماتا ہے کہ جو یومِ آخرۃ پر ایمان لاتے ہیں نہ صرف یہ کہ وہ قرآن پر ایمان لاتے ہیں بلکہ وہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔غرض مذکورہ بالا آیت اس امر پر شاہد کہ میرا یہ استدلال کہ اللہ اور یومِ آخر کے ذکر پر اقتصار اس لئے نہیں کیا گیا کہ اُن کے سوا کسی اور امر پر ایمان لانا مومن ہونے کے لئے ضروری نہیں بلکہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ دونوں امور ایمانیات کی ابتدائی اور آخری کڑیاں ہیں پس ساری زنجیر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ان کو منتخب کر لیا گیا ہے۔ایک اور معنے بھی اس آیت کے ہو سکتے ہیں اور وہ یہ کہ اس جگہ منافقوں کا قول بیان کیا گیا ہے نہ کہ اللہ تعالیٰ کا۔پس ہو سکتا ہے کہ منافق یہ الفاظ جان بوجھ کر کہتے ہوں اور ان کی غرض مومنوں کو دھوکا دینا ہو۔وہ مومنوں کے سامنے یہ الفاظ کہہ کر ان پر تو یہ اثر ڈالنا چاہتے ہوں کہ ہم تمام اسلامی عقیدوں کو تسلیم کرتے ہیں لیکن دل میں یہ خیال رکھتے ہوں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو بھی مانتے ہیں اور یومِ آخر کو بھی مانتے ہیں لیکن قرآنِ کریم اور اس کے لانے والے کو نہیں مانتے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کفار عرب میں سے بہت سے ایسے لوگ تھے جو قیامت کے منکر تھے مگر سب کے سب کفار اس خیال کے نہ تھے ان میں سے ایسے لوگ بھی تھے کہ جو بعدالموت زندگی کے قائل تھے۔چنانچہ ان کی روایات اور اشعار سے ایسے مطالب کی طرف اشارہ ملتا ہے خصوصاً مدینہ کے پاس کے لوگوں کے خیالات میں نسبتاً زیادہ اصلاح تھی۔کیونکہ یہود اور نصار ٰی کے ساتھ مل جل کر رہنے کی وجہ سے اُن میں اہل کتاب کے کئی عقیدے سرایت کر گئے تھے۔اور یہ منافقین جن کا ذکر ہے مدینہ ہی کے رہنے والے تھے۔خلاصہ یہ کہ ہو سکتا ہے کہ اس آیت میں اس دھوکے کی طرف اشارہ کیا گیا ہو جو منافق اپنے کلام سے مومنوں کو دینا چاہتے تھے۔چنانچہ اگلی آیات میں ان کے دھوکا دینے اور استہزاء کرنے کا ذکر بھی ہے۔اس آیت کو وَمِنَ النَّاسِ سے شروع کرنے میںیہ حکمت بھی ہے کہ منافقوں کو ان کی انسانیت کی طرف توجہ دلائی جائے کیونکہ قرآن کریم میں جہاں جہاں بھی نَاسٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے بشر کی اچھی قوتوں اور استعدادوں کی