تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 233 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 233

دلوں،ان کے کان اور ان کی آنکھوں پر مہر لگا دی ہے۔اس اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ پہلے انسان اپنے دل میں غور کرتا ہے پھر بات سن کر ہدایت پاتا ہے اور جب یہ بھی نہ ہو تو معجزات کو دیکھتا ہے۔معجزات کلام کے بعد آہستہ آہستہ ظاہر ہوتے ہیں اس لئے آنکھوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیر میں مہر لگائی جاتی ہے کیونکہ اس راستہ کے ذریعہ حجت دیر سے قائم ہوتی ہے۔پہلے پردے پڑتے ہیں پھر مہر لگتی ہے۔پس سورۂ بقرہ میں اس حالت کا ذکر ہے کہ جب ابھی مہر کا وقت نہ آیا تھا اور سورۃ نحل میں اس حالت کا ذکر ہے جب کہ معجزات کو دیکھ کر بھی ایک لمبے عرصہ تک انسان ایمان نہ لائے۔اس جگہ یہ لطیفہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قلوب اور کانو ںپر مہر لگانے کو تو اپنی طرف منسوب کیا ہے لیکن آنکھو ںکے پردوں کو اپنی طرف منسوب نہیں کیا۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کفاریہ کہہ سکتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں سمجھ نہیں دی کہ ہم اس کی باریک حکمتوں کو سمجھ سکیں اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں سننے کا موقع نہیں ملا۔گو حق یہ ہے کہ انہوں نے خود ہی نہیں سنا لیکن وہ اس بات کا کیا جواب دیںگے کہ خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نصرتیں ان کے دائیں اور بائیں اور سامنے ظاہر ہو رہی ہیں انہیں انہوں نے کیوں نہیں دیکھا؟ پس اس طرح اس مضمون کو واضح کر دیا ہے کہ ختم کا خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جانا صرف نتیجہ فعل کے طور پر ہے ورنہ یہ دونوں نتائج بھی خود کفار کے اعمال کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں جس طرح ان کا نشانات کو نہ دیکھنا ان کا اپنا فعل ہے۔وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان رکھتے ہیں وَ مَاهُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۰۰۹ حالانکہ وہ ہرگز ایمان نہیں رکھتے۔حَلّ لُغَات۔اٰمَنَّا۔اٰمَنَّا اٰمَنَ سے متکلّم مع الغیر کا صیغہ ہے اور مُؤْمِنُوْنَ وَ مُؤْمِنِیْنَ، مُؤْمِنٌ کی جمع ہے جو اسم فاعل کا صیغہ ہے قبل ازیں حَلِّ لُغَات آیت ۴ سورۃ ہذا میں ایمان کے تین معنے لکھے جا چکے ہیں (۱) اعتراف (۲) تصدیق یعنی سچائی کا اقرار کرنا (۳) کسی چیز کے اوپر پختہ ہو جانا۔امام راغب اِیْمَانٌ کی تشریح کرتے ہوئے یوں لکھتے ہیں کہ: ’’ اَ لْاِیْمَانُ یُسْتَعْمَلُ تَارَۃً اِسْمًا لِّلشَّرِیْعَۃِ الَّتِیْ جَاءَ بِھَا مُحَمَّدٌ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ