تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 231
ِذَا اَغْلَفَتْہَا اَ تَاھَا حِیْنَئَذٍ اَ لْـخَتْمُ مِنْ قِبَلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فَلَا یَکُوْنُ لِلْاِ یْمَانِ اِلَیْھَا مَسْلَکٌ وَلَا لِلْکُفْرِ مِنْھَا مَخْلَصٌ فَذَالِکَ ھُوَ الطَّبْعُ وَ الْخَتْمُ یعنی رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں یہ خبر دی ہے کہ گناہ جب متواتر صادر ہوں تو وہ دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں اور جب وہ دلوں پر پردہ ڈال دیں تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہر آ جاتی ہے۔پس اس صورت میںدل میں ایمان داخل نہیں ہو سکتا نہ اس میں سے کفر باہر نکل سکتا ہے۔اور اسی کا نام قرآن کریم میں طَبع اور خَتم آتا ہے۔اسی مضمون کی ایک حدیث مسلم میں حذیفہؓ سے بھی روایت کی گئی ہے۔مہر اور پردہ جسمانی چیز نہیں اس جگہ یہ بھی یاد رہے کہ مہر اور پردہ کوئی جسمانی چیز نہیں ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کفار کی زبانی بیان فرماتا ہے۔قَالُوْا قُلُوْبُنَا فِيْۤ اَكِنَّةٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَيْهِ وَ فِيْۤ اٰذَانِنَا وَقْرٌ وَّ مِنْۢ بَيْنِنَا وَ بَيْنِكَ حِجَابٌ (حٰمّٓ سجدۃ :۶) کہ کفار آنحضرت کو یوں کہتے ہیں کہ جس بات کی طرف تم ہمیں بلاتے ہو ہمارے دل اس سے پردے میں ہیں اور ہمارے کانوں میں گرانی ہے جس کی وجہ سے تمہاری بات سنائی نہیں دیتی اور تمہارے اور ہمارے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس کی وجہ سے تم ہم پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔اس سے معلوم ہوا کہ پردہ اور ختم وغیرہ کے الفاظ بطور استعارہ ہیں۔اور ان کی تشریح وہی ہے جو مندرجہ ذیل آیت میں کی گئی ہے۔لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا١ٞ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا(الاعراف :۱۸۰) یعنی اُن کے دل تو ہیں لیکن وہ ان سے سمجھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کی آنکھیں بھی ہیں مگر وہ اُن سے دیکھنے کا کام نہیں لیتے اور ان کے کان بھی ہیں مگر وہ اُن سے سننے کا کام نہیں لیتے۔اسی مضمون کی تشریح ایک اور آیت میں بھی ہے جو یہ ہے۔اَفَلَمْ يَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِيْ فِي الصُّدُوْرِ(الحج : ۴۷) یعنی کیا یہ لوگ ملک میں چلتے پھرتے نہیں۔کہ اُن کے دل ایسے ہوتے کہ ان کے ذریعہ وہ انجام کو سمجھتے اور ان کے کان ایسے ہوتے کہ ان کے ذریعے نصیحت کی باتوں کو سنتے۔اصل بات یہ ہے کہ اصل نابینائی آنکھوںکی نہیں بلکہ اصل نابینائی ان کے دلوں کی ہے جو سینو ںمیں ہیں۔اوپر جو شبہ بیان ہوا ہے اور جس کا جواب دیا گیا ہے وہ در حقیقت اس سے پیدا ہوتا ہے کہ یہ غو رنہیں کیا گیا کہ یہ آیت پہلی آیت کا تتمہ ہے اور اس میں ان کفار کا ذکر ہے جو صداقت کو سننے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے اور نہ خدا تعالیٰ کے فعل کو دیکھنے کے لئے تیار ہوتے ہیں پس ان لوگوں کی مہر تو ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔اس سے خدا تعالیٰ پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔