تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 230 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 230

ظاہر ہے کہ نہ ماننے کے دو ہی سبب ہوتے ہیں۔یا تو غور نہ کرنا یا غور نہ کرنے کی عادت یا لمبے عناد اور تعصّب کی وجہ سے دلوں میں ایسا مادہ پیدا ہو جانا جو سمجھنے کی طاقت کو ضائع کر دیتا ہے۔اور استعارۃً اس کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ دلوں میں قفل پیدا ہو کر دلوں کی کھڑکیوں میں لگ گئے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا مہر لگانا انہی معنوں میں ہے کہ دوسری قسم کے لوگوں نے چونکہ خود اپنے اوپر ہدایت کے دروازے بند کر دیئے تھے اور اپنے دلوں کو اور کانوں کو اور آنکھوں کو معطّل کر دیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے فعل کا مناسب نتیجہ پیدا کر دیا ہے۔اس مفہوم کے مطابق قرآن کریم میں ایک اور مثال بھی پائی جاتی ہے۔حضرت آدمؑ کے جنت سے نکلنے کے متعلق ایک جگہ فرماتا ہے کہ ہم نے آدم کو کہا کہ اِهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِيْعًا (البقرة:۳۹) یعنی اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ تم سب نکل جائو۔جس کے یہ معنے ہیں کہ جنت سے آدمؑ کو اللہ تعالیٰ نے نکالا۔مگر دوسری جگہ فرماتا ہے۔يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ (الاعراف :۲۸) یعنی اے بنی آدم! شیطان تم کو دُکھ میں مبتلا نہ کر دے جس طرح اس نے تمہارے ابتدائی ماں باپ کو جنت سے نکال دیا تھا۔اس بارہ میں ایک دفعہ نکالنے کو اپنی طرف منسوب کرنا اور ایک دفعہ شیطان کی طرف اسی حکمت سے ہے۔شیطان کی طرف نکالنے کو اس لئے منسوب کیا کہ اس کے فعل کے سبب سے وہ جنت سے نکلنے کے مستحق ہوئے اور خدا تعالیٰ کی طرف اس لئے کہ اس فعل کا آخری اور لازمی نتیجہ خدا تعالیٰ نے نکالا۔بعینہٖ اسی طرح مہر لگانے والی بات بھی ہے۔مہر لگتی ہے عناد اور جحد سے یعنی جان بوجھ کر صداقت کے انکار سے۔لیکن آخری نتیجہ اللہ تعالیٰ نکالتا ہے جس طرح ہر دوسرے فعل کا نتیجہ وہی نکالتا ہے۔دلوں پر مہر لگنے کی تشریح احادیث میں۔یہ معنے جو میں نے کئے ہیں ان کی تصدیق رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے کلام سے بھی ہوتی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ ذَنْبًا کَانَ نُکْتَۃً سَوْدَآءَ فِیْ قَلْبِہٖ فَاِنْ تَابَ وَنَزَعَ وَاسْتَغْفَرَ صُقِّلَ قَلْبُہٗ فَاِنْ زَادَ زَادَتْ حَتّٰی یُغْلَفَ قَلْبُہٗ فَذَالِکَ الرَّانُ الَّذِیْ قَالَ اللّٰہُ جَلَّ ثَنَاءُ ہٗ كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (المطفّفین:۱۵)(تفسیرابن جریر زیر آیت ھذا) یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی مومن گناہ کرے تو اس کے دل پر ایک سیاہ داغ پڑ جاتا ہے پھر اگر توبہ کرے اور گناہ ترک کر دے اور استغفار کرے تو اس کے دل کو صاف کر دیا جاتا ہے۔لیکن اگر گناہ میں بڑھتا جائے تو یہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتٰی کہ اس کے دل پر غلاف چڑھ جاتے ہیں۔اور یہی وہ زنگ ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہےکہ خبردار بات یہ ہے کہ خود ان کے اعمال نے اُن کے دلو ںپر زنگ لگا دیا ہے۔اس کی ابن جریر یہ تشریح بیان کرتے ہیں کہ فَاَخْبَرَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّ الذُّنُوْبَ اِذَا تَتَابَعَتْ عَلَی القُلُوْبِ اَغْلَفَتْھَا وَ