تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 229
اس مضمون کو بھی ردّ کرتا ہے چنانچہ فرماتا ہے فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ (الکہف :۳۰) یعنی جو چاہے اللہ کی طرف سے نازل شدہ کلام پر ایمان لے آئے اور جو چاہے اس کا انکار کر دے۔بلکہ قرآن کریم نے جبر کی نفی کرتے ہوئے بیسیوں جگہ بتایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے جبر ہوتا تو ایمان پرہوتا نہ کہ کفر پر۔جیسے کہ فرمایا۔فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِيْنَ (الانعام :۱۵۰) کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب کو دین حق کی طرف ہدایت کرتا۔قرآن کریم سے تو وضاحت سے یہ امر ثابت ہے کہ ایمان لانا اور کفر اختیار کرنا بندو ںکا فعل ہے اوریہی وجہ ہے کہ کوئی مومن ہے تو کوئی کافر۔جیسے کہ فرمایا۔فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ كَفَرَ (البقرة : ۲۵۴) یعنی لوگوں میں سے بعض تو ایسے تھے جو ایمان لے آئے اور بعض ایسے تھے جنہوں نے انکار کر دیا۔اور فرمایا۔مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٗ (الروم :۴۵) جو کفر کرتا ہے۔تو اُسی پر اُس کے کفر کا وبال پڑے گا۔دلوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ پڑ جانا انسانی اعمال کا ہی نتیجہ ہوتا ہے اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے۔یہ مہر اور پردہ انسان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔جیسے فرمایا۔طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ(النساء :۱۵۶) کہ اللہ نے اُن کے کفر کی وجہ سے اُن کے دلوں پر مہر کر دی ہے۔پھر فرمایا اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ (المنافقون : ۴ ) یعنی یہ لوگ پہلے مسلمانوں کو دکھانے کو ایمان لائے پھر منکروں میں مل کر اسلام سے پھر گئے یہاں تک کہ ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی پھر فرمایا۔كَذٰلِكَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِ الْمُعْتَدِيْنَ (یونس :۷۵) یعنی ہم حد سے پڑھنے والوں کے دلوں پر اسی طرح مہر لگایا کرتے ہیں پھر فرمایا يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ(المومن:۳۶) کہ اللہ تعالیٰ مغرور اور سرکش لوگوں کے دلوں پر ایسے ہی مہر لگایا کرتا ہے پھر فرمایا۔بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ (المطففین :۱۵) یعنی اصل بات یہ ہے کہ اُن کے دلوں پر اُن ہی کے اعمال بد کے زنگ بیٹھ گئے ہیں۔خَتَمَ اللّٰهُ میں مہر لگانے کی نسبت کا اللہ تعالیٰ کی طرف ہونے کا مطلب اگر کہا جائے کہ پھر کیا وجہ کہ اس آیت میں مہر لگانے کی نسبت خدا تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ انسان کے اعمال کا یہ نتیجہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے اس لئے اِن آیات میں خَتَمَ اور طَبَعَ کی نسبت جناب الٰہی کی طرف کی گئی ہے۔ورنہ ایک دوسری آیت میں اس مہر کو خود کفار کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے۔اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا(محمد :۲۵) یعنی کیا کفار قرآن کریم کے مضمون پر غور نہیں کرتے یا یہ بات ہے کہ ان کے دلوں پر اُنہی کے دلوں سے پیدا شدہ قفل لگے ہوئے ہیں۔اس آیت سے