تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 225 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 225

اور یہ معنے اس بات پر اعتبار کرتے ہوئے کئے گئے ہیں کہ جب کتابوں کو یا ابواب کو لکھنے کے بعد اُن پر مہر کر دیتے ہیں تو گویا اب اُن کی تصنیف کو ختم کر دیا اور اس کے لکھنے سے رُک گئے (گویا کسی چیز کو ختم کرنے کے معنے مجازی ہیں) وَقَوْلُہٗ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْ بِھِمْ اِشَارَۃٌ اِلٰی مَا اَجْرَی اللّٰہُ بِہِ الْعَادَۃَ اَنَّ الْاِنْسَانَ اِذَا تَنَاھٰی فِیْ اِعْتِقَادٍ بَاطِلٍ اَوِارْتِکَابِ مَحْظُوْرٍ وَلَا یَکُوْنُ مِنْہُ تَلَفُّتٌ بِوَجْہٍ اِلَی الْحَقِّ یُوْرِثُہٗ ذَالِکَ ھَیْئَۃً تُـمَرِّنُہٗ عَلٰی اِسْتِحْسَانِ الْمَعَاصِیْ وَکَاَنَّـمَا یُخْتَمُ بِذَالِکَ عَلٰی قَلْبِہٖ۔اور آیت خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ میں ختم کا لفظ بولنے سے اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی طرف اشارہ ہے کہ جب انسان اعتقاد باطل یا ممنوع باتوں کے ارتکاب میں حد سے بڑھ جاتا ہے او رحق کی طرف کسی طرح بھی توجہ نہیں کرتا تو اس کا یہ طرزِ عمل اس کے اندر ایک ایسی حالت پیدا کر دیتا ہے جو گناہوں کے ارتکاب کو عمدہ سمجھتی ہے گویا اس کے دل پر اب مہر لگ گئی کہ نہ اُس پرحق کا اثر ہوتا ہے اور نہ اُس کا دل حق کی طرف رجوع کرتا ہے (مفردات امام راغب) نیز لکھا ہے اَلْخَتْمُ وَالطَّبْعُ وَاحِدٌ فِی اللُّغَۃِ وَ ھُوَ التَّغْطِیَۃُ عَلَی الشَّیْ ئِ وَالْاِسْتِیْثَاقُ مِنْ اَنْ لَّایَدْخُلَہٗ شَیْءٌ۔کہ لفظ ختم اور طبع لُغت میں دونوں ہم معنے ہیں اور اُن کے معنے یہ ہیں کہ کسی چیز پر پردہ ڈال دینا اور اس کے اور دوسری اشیاء کے درمیان روک بنا دینا۔اس طور پر کہ کوئی چیز اس تک نہ پہنچ جائے۔(تاج العروس) قُلُوْبٌ۔قَلْبٌکی جمع ہے اور اس کے معنے ہیں اَلْفُؤَادُ۔دل۔وَقَدْ یُطْلَقُ عَلَی الْعَقْلِ اور کبھی قَلب کا لفظ عقل پر بھی بولا جاتا ہے (اقرب) وَیُعَبَّرُ بِالْقَلْبِ عَلَی الْمَعَانِی الَّتِیْ تَخْتَصُّ بِہٖ مِنَ الرُّوْحِ وَالْعِلْمِ وَالشَّجَاعَۃِ۔اور لفظ قَلبکے ذریعہ ان کیفیات کو بیان کیا جاتا ہے جو روح۔علم اور شجاعت وغیرہ اقسام کی اس کے ساتھ مخصوص ہیں۔وَجَائِزٌ فِی الْعَرَبِیَّۃِ اَنْ تَقُوْلَ مَالَکَ قَلْبٌ وَمَا قَلْبُکَ مَعَکَ تَقُوْلُ مَا عَقْلُکَ مَعَکَ۔اور عربی زبان میں یہ جائز ہے کہ مَالَکَ قَلْبٌ اور مَا قَلْبُکَ مَعَکَ بول کر قلب سے مراد عقل لی جائے۔یعنی تجھے عقل نہیں نیز کہتے ہیں اَیْنَ ذَھَبَ قَلْبُکَ۔اور مراد یہ ہوتی ہے کہ تیری عقل کہاں گئی اور مَنْ کَان لَہٗ قَلْبٌ کے تحت میں لکھا ہے اَیْ تَفَھُّمٌ وَتَدَ بُّــرٌ یعنی قلب کے معنے سوچنے اور تدبّر کے ہیں (لسان العرب) پس خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ کے معنے ہوں گے۔کہ اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلو ںپر مہر لگا دی ہے یعنی ایسا بنا دیا ہے کہ نہ اُن کے دل کوئی بات سمجھتے ہیں نہ ان کی عقل میں سوچنے اور تدبّر کا مادہ باقی رہا ہے۔اَلسَّمْعُ: یہ سَمِعَ (یَسْمَعُ) کا مصدر ہے اور سَمِعَ الصَّوْتَ یَسْمَعُ سَمْعًا کے معنے ہیں اَدْرَکَہٗ بِحَاسَّۃِ الْاُذُنِ۔آواز کو کان کی حسّ کے ساتھ معلوم کیا نیز اَلسَّمْعُ کے معنے ہیں حِسُّ الْاُذُ نِ۔شنوائی۔وَالْاُذُ نُ۔کان۔