تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 224
بڑے بڑے ضدّی شخص کبھی اپنی ضد کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس وقت اُن کے لئے ہدایت کا رستہ کھل جاتا ہے۔خود حضرت عمرؓ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسرے خلیفہ ہوئے اُن کے متعلق تاریخوںمیں آتا ہے کہ قرآن کا خود سننا تو الگ رہا وہ دوسروں کو بھی سننے نہ دیتے تھے۔لیکن ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ وہ قرآن کریم سننے پر اپنے بہنوئی کو مارنے لگے اوربہن درمیان میں آ گئی اور اُسے چوٹ آگئی۔چونکہ شریف آدمی تھے عور ت کو زخمی دیکھ کر ندامت پیدا ہوئی اور اس ندامت کی وجہ سے کہا کہ اچھا مجھے دکھائو تم کیا پڑھ رہے تھے۔اس کے بعد قرآن کریم کا کچھ حصہ پڑھا اور فوراً ایمان لے آئے (سیرت ابن ہشام۔اسلام عمربن الخطاب) پس یہ حالت ایمان سے بے شک محروم کر دیتی ہے مگر یہ حالت بدل بھی جاتی ہے اور اس وقت انسان کے لئے ایمان نصیب ہونے کا راستہ کھل جاتا ہے۔خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْ١ؕ وَ عَلٰۤى اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ١ٞ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌؒ۰۰۸ آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا )ہے اور ان کے لئے ایک بڑا عذاب (مقدر )ہے۔حَلّ لُغَات۔خَتَمَ۔خَتَمَ خَتْمًا وَخِتَامًا کے معنے ہیں طَبَعَہٗ وَوَضَعَ عَلَیْہِ الْخَاتَمَ مہر لگائی۔خَتَمَ الصَّکَّ وَغَیْرَہٗ: وَضَعَ عَلَیْہِ نَقْشَ خَاتَمِہٖ حَتّٰی لَایَجْرِیَ عَلَیْہِ التَّزْوِیْرُ۔کسی تحریر پر مہر لگا دی تاکہ جعلی ہونے کا امکان باقی نہ رہے (اقرب) کُلِّیَاتِ اَبِی الْبَقَاء میں ہے خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ: جَعَلَہٗ حَیْثُ لَا یَفْھَمُ شَیْئًا وَّلَا یَخْرُجُ عَنْہُ شَیْئًا یعنی خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قَلْبِہٖ جب بولا جائے تواس کے یہ معنے ہوں گے کہ اس کے دل کو ایسا بنا دیا کہ وہ کوئی بات نہیں سمجھ سکتا اور نہ اپنی بات سمجھا سکتا ہے۔مفردات میں ہے اَلْخَتْمُ وَالطَّبْعُ عَلٰی وَجْھَیْنِ مَصْدَرُ خَتَمْتُ وَطَبَعْتُ وَھُوَتَأْثِیْرُ الشَّیْءِ کَنَقْشِ الْخَاتَمِ وَالطَّابِــعِ۔کہ لفظ خَتْم اور طَبْع دو طرح استعمال ہوتا ہے۔(۱) مصدری معنوں میں یعنی کسی چیز پر کس چیز کا مہر کی طرح کا نقش کر دینا۔وَالثَّانِیْ اَلْاَثَرُ الْحَاصِلُ عَنِ النَّقْشِ (۲) اس نقش سے جو اثر حاصل ہوتا ہے یعنی جو مہر لگتی ہے اُس پر بھی ختم کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔وَیُتَجَوَّزُ بِذَ الِکَ تَارَۃً فِی الْاِ سْتِیْثَاقِ مِنَ الشَّیْ ءِ وَالْمَنْعِ مِنْہُ اِعْتبَارًا بِمَایَحْصُلُ مِنَ الْمَنْعِ بِالْخَتْمِ عَلَی الْکُتُبِ وَالْاَ بْوَابِ او رکبھی کبھی کسی امر سے رُکنے کے مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے