تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 223

جو معنے مَیں نے اوپر بیان کئے ہیں ان کے رُو سے لَا یُؤْمِنُوْنَ اِنَّ کی خبر ہے یعنی ایسے کافر ایمان نہیں لائیں گے۔لیکن بعض مفسرین نے سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ کو پہلی خبر اور لَایُؤْمِنُوْنَ کو دوسری خبر بتایا ہے مگر میرے نزدیک گو نحواً یہ درست ہے لیکن معناً درست نہیں۔کیونکہ اس صورت میں معنے یہ ہوتے ہیں کہ کافروں پر تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے اور وہ ایمان نہ لائیں گے۔اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ معنے سورہ ٔ نصرکے مضمون کے خلاف ہیں جس میں یہ وعدہ دیا گیا ہے کہ کفاّر کثرت کے ساتھ ایمان لائیں گے۔سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ الخ کا ترجمہ تین طور پر مذکورہ بالا تشریح کے مطابق اس آیت کے معنے مندرجہ ذیل طریقوں میں سے کسی ایک طریق پر کئے جا سکتے ہیں (۱) کافر در آنحالیکہ تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے لئے برابر ہے ایمان نہیں لائیں گے یعنی جب تک یہ اپنے اس عناد کو دُور نہ کریں وہ ہدایت نہیں پا سکتے (۲) وہ کافر جن کے لئے تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے ایمان نہیں لائیں گے یعنی ایسے لوگ جو انذار کا محل نہیں ہیں انہیں خدا تعالیٰ کا خوف دلانے کا فائدہ نہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔یعنی کافر دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کوئی نہ کوئی مذہب رکھتے ہیں خدا تعالیٰ کو مانتے ہیں‘ حشر و نشر کو مانتے ہیں۔اُن کے سامنے جب صداقت پیش کی جائے اور خشیت اللہ کی طرف توجہ دلائی جائے تو ان کے دلوں میں ایک قسم کا تقویٰ پیدا ہو جاتا ہے اور وہ غور کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور اگر صداقت ُکھل جائے تو اُسے مان بھی لیتے ہیں لیکن ایسے کافر نہ خدا کو مانیں اور نہ حشر و نشر کو انہیں خشیت اللہ کی طرف توجہ دلانے کا فائدہ نہیں۔وہ تو خدا تعالیٰ کے نام پر بھی ہنسی اڑاتے ہیں۔اُن کے لئے تو پہلے خدا پر ایمان اور حشر و نشر پر ایمان لانے کے دلائل بیان کرنے چاہئیں تب جا کر وہ نبی کی لائی ہوئی صداقت کی طرف توجہ کریںگے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کے بعد ہی خشیت پیدا ہوتی ہے اور تبھی خشیت اللہ کی طرف توجہ دلانا ایمان کا موجب ہو سکتا ہے (۳) تیسرے معنے اس آیت کے یہ ہو سکتے ہیں کہ وہ کافر جن کیلئے تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے یعنی وہ سننا ہی نہیں چاہتے تو انہیں وعظ کرے یا نہ کرے اُن کے لئے یکساں ہے کیونکہ انہوں نے تو اسے سننا ہی نہیں ایسے لوگ بھی ایمان نہیں لا سکتے اور ایمان نہیں لائیں گے۔آیت سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ الخ سے ایک غلط استدلال اور اس کا جواب بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے کم سے کم یہ تو معلوم ہوا کہ ایک طبقہ انسانوں کا ایسا ہے جو ایمان سے محروم ہے لیکن یہ اعتراض غلط فہمی پر مبنی ہے کیونکہ کسی حالت کا نتیجہ بتانے کے یہ معنے نہیں ہوتے کہ وہ حالت بھی نہیں بدل سکتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جس شخص کے لئے ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہو وہ ایمان نہیں لا سکتا لیکن اس حالت کا ہمیشہ رہنا تو ضروری نہیں۔