تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 222

اس کے معنے ماضی کے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اگر ان الفاظ کے معنے ماضی کے کئے جائیں تو ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کے لئے برابر ہے کیا تو نے انہیں ڈرایا یا نہ ڈرایا۔ایک ادنیٰ تامّل سے یہ امر سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ فقرہ بے معنے ہے۔اس صورت میں تو استفہام کی کوئی ضرورت نہ تھی۔یہ کہنا چاہیے تھا کہ اُن کے لئے یہ امر یکساں رہا ہے کہ تو نے انہیں ڈرایا یا انہیں نہ ڈرایا۔استفہام کا طریق اختیار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںکسی واقعہ کا ذکر مراد نہیں بلکہ بعض کفار کی حالت کا اظہار مراد ہے۔علاوہ ازیں جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ معنے قرآن کریم کی دوسری آیات کے بھی خلاف ہیں۔ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ میں ہمزہ استفہام اور اس کا مطلب ان غلط معنوں کے کرنے والوں کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ عربی زبان میں ایسے موقع پر ہمزہ استفہام کے لئے نہیں بلکہ مصدر کے مشابہ معنے دینے کے لئے آتا ہے اور سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ کے معنے یہ ہیں کہ تیرا ان کو ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر رہا ہے۔پس یہ جملہ معترضہ ہے اور تاکید کے لئے یا پہلے مضمون سے جو غلطی لگتی ہو اُسے دُور کرنے کے لئے آتا ہے اور حال اور صفت کے معنوں کے مشابہ معنے دیتا ہے۔اور مراد یہ ہے کہ وہ کافر جن کا حال یہ ہے یا جن کی یہ صفت ہے کہ تیرا اُن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا اُن کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔یعنی جو کافر دلائل پر کان ہی نہیں دھرتے وہ ہدایت نہیں پا سکیں گے۔چنانچہ امام سیبویہ جونحو کے سب سے بڑے عالم ہیں لکھتے ہیں کہ اس مقام پر استفہام یعنی سوال کے معنے بالکل نظرانداز کر دیئے جاتے ہیں۔(کشّاف زیر آیت ھٰذا) اقرب الموارد جو لغت کی مشہو ر کتاب ہے اس میں لکھا ہے وَتَخْرُجُ الْھَمْزَۃُ عَنْ حَقِیْقَۃِ الْاِ سْتِفْھَامِ فَتَرِدُ لِثَـمَانِیَۃِ مَعَانٍ یعنی کبھی ہمزہ استفہام کے معنوں سے بالکل خالی ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کے آٹھ معنے عربی زبان میں ہوتے ہیں۔پھر لکھا ہے اَ لْاَوَّلُ اَلتَّسْوِیَۃُ نَحْوَمَا اُبَالِیْ اَقُمْتَ اَمْ قَعَدْتَّ وَضَابِطَہَا اَنَّھَا تَدْخُلُ عَلٰی جُمْلَۃٍ یَصِحُّ اِسْتِبْدَالُھَا بِالْمَصْدَ رِوَ ھِیَ تَقَعُ بَعْدَ سَوَآءٍ وَمَا اُبَالِیْ وَلَیْتَ شِعْرِیْ وَمَا شَاکَلَھُنَّ۔یعنی پہلے معنے اس کے برابر ہونے کے ہوتے ہیں جیسے کہ یہ فقرہ کہ مجھے تیرے کھڑے رہنے یا بیٹھ جانے کی پرواہ نہیں۔او راس کا قاعدہ یہ ہے کہ یہ ایسے جملہ پر داخل ہوتا ہے جس کی جگہ مصدر کا رکھناجائز ہوتا ہے اور اس موقع پر یہ سَوَآ ءٌ کے لفظ کے بعد استعمال ہوتا ہے یا مَا اُبالِیْ یا لَیْتَ شعری یا ان کے ہم معنی دوسرے الفاظ کے بعد استعمال ہوتا ہے۔اس آیت میں بھی یہ سَوَآءٌ کے بعد استعمال ہوا ہے۔پس اس کے معنے مصدر کے معنوں سے صحیح طو رپر ادا ہوتے ہیں اور سوال کے معنے اس میں ہر گز جائز نہیں بلکہ صرف یہ معنے ہیں کہ سَوَآءٌ اِنْذَارُکَ لَھُمْ وَعَدَمُ اِنْذَارِکَ لَھُمْ یعنی جن کافروں کے لئے تیرا ڈرانا یا نہ ڈرانا برابر ہے وہ ایمان نہ لائیں گے۔