تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 222
اس کے معنے ماضی کے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ اگر <mark>ان</mark> الفاظ کے معنے ماضی کے کئے جائیں تو ترجمہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کے لئے برابر ہے کیا تو نے <mark>ان</mark>ہیں ڈرایا یا نہ ڈرایا۔ایک ادنیٰ تامّل سے یہ امر سمجھ میں آ سکتا ہے کہ یہ فقرہ بے معنے ہے۔اس صورت میں تو استفہام کی کوئی ضرورت نہ تھی۔یہ کہنا چاہیے تھا کہ اُن کے لئے یہ امر یکساں رہا ہے کہ تو نے <mark>ان</mark>ہیں ڈرایا یا <mark>ان</mark>ہیں نہ ڈرایا۔استفہام کا طریق اختیار کرنا ظاہر کرتا ہے کہ یہاںکسی واقعہ کا ذکر مراد نہیں بلکہ بعض کفار کی حالت کا اظہار مراد ہے۔علاوہ ازیں جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ معنے قرآن کریم کی دوسری آیات کے بھی خلاف ہیں۔ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ میں ہمزہ استفہام اور اس کا مطلب <mark>ان</mark> غلط معنوں کے کرنے والوں کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ عربی زب<mark>ان</mark> میں ایسے موقع پر ہمزہ استفہام کے لئے نہیں بلکہ مصدر کے مشابہ معنے دینے کے لئے آتا ہے اور سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ۠ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ کے معنے یہ ہیں کہ تیرا <mark>ان</mark> کو ڈر<mark>ان</mark>ا یا نہ ڈر<mark>ان</mark>ا برابر رہا ہے۔پس یہ جملہ معترضہ ہے اور تاکید کے لئے یا پہلے مضمون سے جو غلطی لگتی ہو اُسے دُور کرنے کے لئے آتا ہے اور حال اور صفت کے معنوں کے مشابہ معنے دیتا ہے۔اور مراد یہ ہے کہ وہ کافر جن کا حال یہ ہے یا جن کی یہ صفت ہے کہ تیرا اُن کو ڈر<mark>ان</mark>ا یا نہ ڈر<mark>ان</mark>ا اُن کے لئے برابر ہے وہ ایم<mark>ان</mark> نہ لائیں گے۔یعنی جو کافر دلائل پر ک<mark>ان</mark> ہی نہیں دھرتے وہ ہدایت نہیں پا سکیں گے۔چن<mark>ان</mark>چہ امام سیبویہ جونحو کے سب سے بڑے عالم ہیں لکھتے ہیں کہ اس مقام پر استفہام یعنی سوال کے معنے بالکل نظر<mark>ان</mark>داز کر دیئے جاتے ہیں۔(کشّاف زیر آیت ھٰذا) اقرب الموارد جو لغت کی مشہو ر کتاب ہے اس میں لکھا ہے وَتَخْرُجُ الْھَمْزَۃُ عَنْ حَقِیْقَۃِ الْاِ سْتِفْھَامِ فَتَرِدُ لِثَـمَ<mark>ان</mark>ِیَۃِ مَعَ<mark>ان</mark>ٍ یعنی کبھی ہمزہ استفہام کے معنوں سے بالکل خالی ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کے آٹھ معنے عربی زب<mark>ان</mark> میں ہوتے ہیں۔پھر لکھا ہے اَ لْاَوَّلُ اَلتَّسْوِیَۃُ نَحْوَمَا اُبَالِیْ اَقُمْتَ اَمْ قَعَدْتَّ وَضَابِطَہَا اَنَّھَا تَدْخُلُ عَلٰی جُمْلَۃٍ یَصِحُّ اِسْتِبْدَالُھَا بِالْمَصْدَ رِوَ ھِیَ تَقَعُ بَعْدَ سَوَآءٍ وَمَا اُبَالِیْ وَلَیْتَ شِعْرِیْ وَمَا شَاکَلَھُنَّ۔یعنی پہلے معنے اس کے برابر ہونے کے ہوتے ہیں جیسے کہ یہ فقرہ کہ مجھے تیرے کھڑے رہنے یا بیٹھ ج<mark>ان</mark>ے کی پرواہ نہیں۔او راس کا قاعدہ یہ ہے کہ یہ ایسے جملہ پر داخل ہوتا ہے جس کی جگہ مصدر کا رکھناجائز ہوتا ہے اور اس موقع پر یہ سَوَآ ءٌ کے لفظ کے بعد استعمال ہوتا ہے یا مَا اُبالِیْ یا لَیْتَ شعری یا <mark>ان</mark> کے ہم معنی <mark>دوسرے</mark> الفاظ کے بعد استعمال ہوتا ہے۔اس آیت میں بھی یہ سَوَآءٌ کے بعد استعمال ہوا ہے۔پس اس کے معنے مصدر کے معنوں سے صحیح طو رپر ادا ہوتے ہیں اور سوال کے معنے اس میں ہر گز جائز نہیں بلکہ صرف یہ معنے ہیں کہ سَوَآءٌ اِنْذَارُکَ لَھُمْ وَعَدَمُ اِنْذَارِکَ لَھُمْ یعنی جن کافروں کے لئے تیرا ڈر<mark>ان</mark>ا یا نہ ڈر<mark>ان</mark>ا برابر ہے وہ ایم<mark>ان</mark> نہ لائیں گے۔