تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 217
اَفْلَحَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں فَازَوَظَفِرَ بِمَا طَلَبَ یعنی اپنے ارادے میں کامیاب ہو گیا اور مقصود کو پا لیا۔اَفْلَحَ زَیْدٌ۔نَجَحَ فِی سَعْیِہٖ وَاَصَابَ فِیْ عَـمَلِہٖ۔زید نے اپنی کوشش کے پھل کو پا لیا اور اس کی محنت بار آور ہوئی۔(اقرب) اَلْفَلَاحُ۔اَلظَّفَرُ وَاِدْرَاکُ بُغْیَۃٍ۔فلاح کے معنے کسی کام میں کامیابی اور مقصود کو پالینے کے ہیں (مفردات امام راغب) تاج العروس میں ہے یُقَالُ لِکُلِّ مَنْ اَصَابَ خَیْرًا۔مُفْلِحٌ۔ہر اس شخص کوجو کسی دنیوی یا دینی بھلائی کو حاصل کرے مُفْلح کہتے ہیں اور فلاح ایسی کامیابی کو کہتے ہیں جس پر دوسرے رشک کریں۔اَئمہ عرب کا اس پر اتفاق ہے کہ عربی زبان میں فلاح کے لفظ سے بڑھ کر دینی اور دنیوی دونوں بھلائیوں کو شامل رکھنے والا لفظ اور کوئی نہیں۔پس مُفْلِحُوْنَ کے معنے ہوں گے اپنے مطالب میں کامیاب ہونے اور اپنے مقصود کو حاصل کر لینے والے۔تفسیر۔اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ میں متقی کے انجام کا ذکر اس آیت میں اس قسم کے متقی کا انجام بتایا ہے جس کا ذکر اوپر ہو چکا ہے پہلے تو یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم اس قسم کے متقی کو ہدایت کے اعلیٰ مقامات تک پہنچاتا ہے اس آیت میں اس ہدایت کی نوعیت کو ظاہر کرنے کے لئے فرماتا ہے کہ اوپر کے بیان کردہ شرائط کے ماتحت جو متقی ہوں ’’وہ اپنے رب کی ہدایت پر ہوتے ہیں۔‘‘ تفصیل اس مضمون کی یہ ہے کہ ایک تو اس آیت میں مِنْ رَّبِّهِمْ کے الفاظ استعمال کر کے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ چونکہ ربّ ہے اور ربّ اُسے کہتے ہیں جو بتدریج ترقی کی طرف لے جائے اس لئے جو شخص خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے اس کا قدم بتدریج آگے کی طرف بڑھتا چلا جاتا ہے دوسرے ربّ کو ھُمْ کی طرف مضاف کر کے یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ چونکہ اُن کا ربّ ہے اس لئے اصل منشاء اس کا یہ ہے کہ لوگ ہدایت پائیں نہ یہ کہ گمراہ ہوں پس جو شخص ہدایت کی طرف توجہ کرے اسے ضرور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کے سامان میسرہوتے ہیں۔تیسرے عَلٰى هُدًىکہہ کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ گویا ایسے متقیوں کے لئے ہدایت ایک سواری کی طرح ہو جاتی ہے جس کی پیٹھ پر وہ سوار ہوتے ہیں اور یہ سواری ان کے ربّ کی طرف سے آتی ہے اور جب کسی کی طرف سے سواری آئے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اس شخص کو ملاقات کے لئے بلایا گیا ہے۔پس اس عبارت سے یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ہدایت انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف لے جانا شروع کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مل جاتے ہیں۔عَلٰى هُدًىکے الفاظ میں متقیوںکے لئے ہدایت کے ایک سواری کی طرح ہو جانے کی طرف اشارہ ہدایت کے لئے سواری کا محاورہ کوئی ذوقی لطیفہ نہیں بلکہ عربی میں اس قسم کا محاورہ عام مستعمل ہے چنانچہ عرب لوگ کہتے ہیں جَعَلَ الْغَوَایَۃَ مَرْکَبًا فلاںشخص نے تو گمراہی کو اپنی سواری بنا لیا ہے یعنی وہ جس طرف رُخ