تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 218

کرتا ہے گمراہی کی راہ سے کرتا ہے اسی طرح کہتے اِمْتَطَی الْجَھْلَ فلاں شخص جہالت پر سوار ہو گیا ہے۔ہدایت کے لئے سواری کا محاورہ اسی محاورہ کے مقابل پر قرآن کہتا ہے کہ اوپر کی صفات والے متقیوں کی سواری ہدایت ہو جاتی ہے یعنی وہ ہر کام خدا تعالیٰ کی ہدایت کے ماتحت کرتے ہیں جہالت اور گمراہی سے ان کے افعال پاک ہو جاتے ہیں او رایسا شخص جو ہر وقت ہدایت پر رہے وہی ہو سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی اور الہام سے ہدایت ملتی رہے ورنہ جو شخص محض عقل سے کام لیتا ہے وہ بسا اوقات غلطی میں پڑ جاتا ہے۔عَلٰى هُدًى فرما کر اس طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف جانے کا عمل ان کے لئے آسان ہو جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت سواری کی طرح اُن کے سفر کو ہلکا کر دیتی ہے۔عَلٰى هُدًى میں جو ھُدًی پر تنوین ہے یہ تعظیم کے لئے ہے یعنی یہ ہدایت بہت بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَکی تشریح اور اس کے متعلق ایک اعتراض کا جواب وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔مُفْلِحُوْنَ کے معنے حَلِّ لُغَات میں بتائے جا چکے ہیں کہ اپنی مراد کو پالینے کے ہوتے ہیں پس اس جملہ کے یہ معنے ہوئے کہ یہ لوگ اپنی مراد کو پا لیتے ہیں اور مومن کی مراد اپنے ربّ کا قرُب اور اس سے وصال ہوتا ہے پس اس جملہ میں پہلے جملہ کے مضمون کا انجام بتایا ہے کہ ایسے متقی ہدایت کی سواری پر چڑھ کر آخر خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں اور اپنی مراد کو پا لیتے ہیں۔بعض لوگ اس جگہ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ہم تو دیکھتے ہیں کہ کئی خدا تعالیٰ کے مقرب اور اس زندگی میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں اور بعض مارے جاتے ہیں تو پھر کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہدایت یافتہ لوگ ضرور کامیاب ہوتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مُفْلِح کے معنے اپنی مراد پا لینے کے ہیں نہ کہ دنیوی ترقیات یا جسمانی راحت کے۔اس میں شک نہیں کہ بالعموم خدا تعالیٰ کے مقربوں کو دنیوی کامیابی بھی ہوتی ہے مگر وہ ایک ضمنی شے ہے مقصود نہیں ہے۔خدا رسیدہ لوگوں کی مراد تو خدا تعالیٰ کا قُرب اور اس کی بھیجی ہوئی سچائی کی اشاعت ہے۔سو اس میں کبھی کوئی خدا رسیدہ ناکام نہیں ہوا۔مسیح علیہ السلام کو یہود نے پھانسی پر تو لٹکا دیا مگر کیا وہ مسیح کے مشن کو ناکام کر سکے؟ اپنے مقصد میں تو مسیح علیہ السلام ہی کامیاب ہوئے۔حضرت امام حسینؓ یزید کے مقابلہ پر شہید ہوئے مگر کیا یزید کا نام بھی اب کوئی لیتا ہے؟ جس مقصد کے لئے امام حسین کھڑے ہوئے آخر وہی کامیاب ہوا اور دنیا نے اسلامی نظام کی اسی تشریح کو قبول کیا جس کے لئے حضرت امام حسینؓکھڑے ہوئے تھے۔یزید کے مقصد کی تو آج ایک مسلمان بھی تائید نہیں کرتا۔پس مُفْلِحْ کے لفظ سے مراد کو پالینے کا وعدہ ہے نہ یہ کہ وہ اپنے دشمن کے ہاتھوں ہلاک