تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 216

سے کی جا سکتی ہے قرآن کریم میں مَا اُنْزِلَ کے لفظ کی تعبیر وحی سے بھی کی گئی ہے اور رِسَالَۃٌ کے لفظ سے بھی۔چنانچہ سورۂ احزاب میں ہے۔اَلَّذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ يَخْشَوْنَهٗ وَ لَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ (الاحزاب: ۴۰) یعنی وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی وحی لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے غرض رسالت کا لفظ بھی وحی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ لفظ مونث ہے پس آخرت کے معنے اَلرِّسَالَۃُ الْاٰخِرَۃُ کے ہیں اور رِسَالَۃٌ کے لفظ کی رعایت سے اٰخِرَۃٌ کا لفظ مؤنث آیا ہے یاد رہے کہ لغت میں بھی وحی کے معنے رسالت کے آتے ہیں۔(تاج العروس) اس جگہ یہ امر بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ اوپر کی دونوں آیتو ںکی ابتدا یُؤْمِنُوْنَ کے الفاظ سے ہوئی ہے اور بعد میں دو امور دونوں آیتوں میں بیان ہوئے ہیں اس سے استدلال ہوتا ہے کہ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے تابع اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃِ اور اِنفاق مَارَزَقَ اللّٰہ ہیں اور یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلٰی مُحمدٍؐ کے تابع بِمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِہٖ پر ایمان اور اٰخرۃ پر یقین ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس زمانہ میں قرآن کریم ہی کے ذریعہ سے اس سے پہلے کی وحیوں پر ایمان اور آخرۃ پر یقین پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ پہلے انبیاء کے حالات ایسے مشتبہ کر دیئے گئے ہیں کہ قرآن کریم کی روشنی میں ہی ان کی قدر اور صداقت معلوم ہو سکتی ہے اور آئندہ وحی کے نزول کے متعلق بھی قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہی یقین ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے سوا جس قدرادیان ہیں سب نے وحی کا دروازہ بند کر رکھا ہے اور کوئی مذہب اس امر کا مدعی نہیں کہ اسے مان کر خدا تعالیٰ کی وحی اب بھی بندہ پر نازل ہو سکتی ہے۔اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ١ۗ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۰۰۶ یہ لوگ ہدایت پر (قائم )ہیں جو ان کے رب کی طرف سے ہے اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔حَلّ لُغَات۔عَلٰی۔علٰی حرف جر ہے اور اس کے نو معنے ہیں جن میں سے ایک معنے استعلاء کے ہیں یعنی غالب ہونے یا اوپر آ جانے کے (مغنی) ھُدًی۔ھُدًی کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ فاتحۃ آیت ۶وسورۃ بقرۃ آیت ۳۔رَبِّھمْ۔رَبّ کے معنوں کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ الفاتحۃ آیت۲۔اَلْمُفْلِحُوْنَ۔اَلْمُفْلِحُوْنَ اَفْلَحَ سے اسم فاعل مُفْلِحٌ آتا ہے اور مُفْلِحُوْنَ اس سے جمع کا صیغہ ہے