تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 215
اعلیٰ مقصد کو سامنے لا کر مسلمانوں کا مطمح نظر اونچا کر دیا گیا ہے۔افسوس کہ مسلمانوں نے اس عظیم الشان احسان کو نہ سمجھااور خود اپنے مستقبل کو تاریک بنا لیا۔آج کیوں مسلمان اسلام سے دُور جا رہے ہیں اور کیوں گزشتہ صدی میں ان میں َحسن بصری۔سید عبدالقادر جیلانی۔جنید بغدادی۔معین الدین چشتی۔شہاب الدین سہروردی۔محی الدین ابن عربی۔سید احمد سرہندی اور شاہ ولی اللہ رحم اللہ علیہم جیسے لوگ پیدا نہیں ہوئے؟ اسی وجہ سے کہ اعلیٰ روحانی مقامات کے حصول کے لئے جس امید اور یقین کی ضرورت ہے وہ ان میں نہیں رہی خدا تعالیٰ نے اس ولولہ اور جوش کے پیدا کرنے کے لئے ان سے اعلیٰ روحانی انعامات کا وعدہ کیا تھا اور اس پر یقین رکھنے کے لئے قرآن کریم کے شروع میں ہی انہیں حکم دیا تھا۔لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی اور ان کی ہمتیں سست ہو گئیں اور کوششیں سست ہو گئیں آج مسلمان تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ ایم اے، بی اے ہو کر انہیں نوکریاں مل جائیں گی۔تجارت کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اس سے مال ملے گا۔زراعت کرتے ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ اس سے غلہ اور پھل حاصل ہو گا۔لیکن نماز اور روزہ اور حج میں وہ جوش نہیں جو اُمید سے پُر دل کا نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان امور کا بجالانا صرف فرض کی ادائیگی ہے اس کے روحانی نتائج کوئی پیدا نہ ہوں گے۔کس قدر حسرت کا مقام ہے کہ مسلمانوںمیں سے جس نے اس دروازہ کو ُکھلا بتایا۔مسلمانوں نے اُس پر کفر کا فتویٰ لگاد یا انہوں نے کہا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والا ہے کیونکہ وہ آپؐ کے بعد وحی کا دروازہ کھلا بتاتا ہے اور یہ نہ سمجھا کہ وحی کیا ہے؟ وحی کے معنے ہیں خدا تعالیٰ کے تازہ کلام کا سننا اور جو شخص خدا تعالیٰ کے تازہ کلام کو سنے گا ظاہر ہے کہ اس کا دل محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ترقی کرے گا اور آپؐ پر اُس کا ایمان بڑھے گا نہ یہ کہ اس کے برعکس ہو گا۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرے وہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دُور چلا جائے؟ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ ذَالِک۔خلاصہ کلام یہ کہ آخرۃ پر یقین کی تعلیم مسلمانوں کے حوصلے بڑھانے اور روحانی میدان میں ان کی کوششوں کو تیز کرنے کے لئے تھی اور جو مسلمان بھی آخرۃ پر یقین رکھے گا وہ اس کے حصول کے لئے اسی طرح کوشش کرے گا جس طرح صحابہ کرام نے کی اور سید عبدالقادر جیلانی ؒ اور محی الدین ابن عربی وَغَیْرُھُم نے کی۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ وحی مذکر ہے اور آخرۃ مؤنث کا صیغہ ہے پھر اس سے وحی کی طرف کس طرح اشارہ ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ وحی کا لفظ نہیں مَا اُنْزِلَ کے الفاظ ہیں اور ان کی تعبیر کسی ہم معنے لفظ