تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 214

اصلاحِ امت کرے گا۔غرض اس آیت کے سباق کو مدِّنظر رکھتے ہوئے وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَ کے معنے یہ ہیں کہ جس طرح متقی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان رکھتا ہے اور آپ سے پہلی وحی پر ایمان رکھتا ہے اسی طرح وہ بعد میں آنے والی وحی پر بھی یقین رکھتا ہے۔آنحضرت ؐ اور آپؐ کے پہلے انبیاء کی وحیوں کے متعلق ایمان لانے کے الفاظ اور آخری وحی کے متعلق یقین رکھنے کے الفاظ استعمال کرنے کی وجہ شاید کسی کو یہ شبہ گزرے کہ پہلی دونوں وحیوں کی نسبت تو ایمان کا لفظ ا ستعمال ہوا ہے لیکن آخرۃ کی نسبت یقین کا لفظ استعمال ہوا ہے پس کیوں نہ سمجھا جائے کہ اس جگہ وحی کی بجائے کسی اور چیز کا ذکر ہے ورنہ اس کے لئے بھی ایمان کا لفظ استعمال ہوتا۔اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ ایمان کا لفظ عام طو رپر اس شے کے متعلق استعمال ہوتا ہے جس کا وجود معرض وجود میں آ چکا ہو۔جس کا وجود معرضِ وجود میں نہ آیا ہو بلکہ آئندہ آنے والا ہو اُس کی نسبت یقین کا لفظ ہی زیادہ مناسب ہوتاہے۔اگر کہا جائے کہ حَیٰوۃ بَعْدَ الْمَوْت کے متعلق بھی تو ایمان کا لفظ آتا ہے حالانکہ وہ بعد میں آنے والی شے ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہحیٰوۃ بَعْدَ الْمَوْت بیشک ایک زندہ شخص کے لئے تو بعد میں آنے والی شے ہے مگر اس کا وجود اس وقت بھی موجود ہے اور جو لوگ مر چکے ہیں وہ معاً ایک قسم کی زندگی پا رہے ہیں پس یہ خدائی فعل پہلے بھی ظاہر ہوتا رہا ہے اب بھی ہو رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا پسحَیٰوۃ بَعْدَ الْمَوْت در حقیقت ایک ایسی چیز ہے جو ہر وقت ہو رہی ہے اس لئے اس کی نسبت ایمان کا لفظ ہی زیادہ مناسب ہے مگر جو وحی آئندہ نازل ہونے والی ہو اس کی نسبت یقین کا لفظ زیادہ مناسب ہے۔اگر پہلی وحیوں کی نسبت سے وحی کا ذکر نہ کیا جائے بلکہ صرف یہ کہا جائے کہ مومن اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ وحی خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتی ہے تو اس موقعہ پر چونکہ مخصوص طو رپر آئندہ وحی کا ذکر نہ ہو گا اس کے لئے ایمان کا لفظ زیادہ مناسب ہو گا۔اصل بات یہ ہے کہ وحی الٰہی ہر شخص پر نہیں اُترتی بلکہ بعض ترقی یافتہ اور مقرب وجودوں پر اُترتی ہے اور قومی لحاظ سے متقیوں کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ اس امر پر یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ بھی ان کو بھلائے گا نہیں بلکہ ان میں سے کامل وجودوں پر وحی نازل ہوتی رہے گی اور اس طرح ہر مسلمان کے دل میں یہ خواہش پیدا کی گئی ہے کہ وہ اپنے آپ کو ایسا اعلیٰ درجہ کا متقی بنائے کہ اس پر خدا تعالیٰ کی وحی نازل ہو اور اس طرح اعلیٰ امید پیدا کر کے اور