تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 212
الآخرة کے معنی قرآن کریم میں انجام کے معنوںمیں یہ لفظ استعمال ہوا ہے چنانچہ فرماتا ہے وَ لَلْاٰخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْاُوْلٰى (الضحیٰ :۵) یعنی تو جو کام بھی شروع کرتا ہے اس کا انجام ابتداء کی نسبت اچھا ہوتا ہے اور یہ ہر کام میں تیری کامیابی اس امر کی شہادت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا تیرے ساتھ ہے۔پس لفظی معنے وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنْوُنَ کے یہ ہیں کہ بعد میں آنے والی شے پر وہ یقین رکھتے ہیں۔اب رہا یہ سوال کہ بعد میں آنے والی کیا شے ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر تو اس امر کو دیکھا جائے کہ قرآن کریم میں آخِرَۃ کا لفظ زیادہ تر کن معنوں میں استعمال ہوا ہے تو اس کے معنے قیامت یا مابعدالموت زندگی کے ہوتے ہیں۔مثلاً فرماتا ہے۔مَا لَهٗ فِي الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ (البقرة:۱۰۳) ایسے شخص کا حصہ بعدالموت زندگی میں کوئی نہ ہو گا۔یا فرماتا ہے۔بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِي الْاٰخِرَةِ(النمل :۶۷) بعد الموت زندگی کے بارہ میں ان کا علم بعد مشاہدہ کے کامل ہو گیا۔اسی طرح اور متعدد مقامات پر ان معنوں میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔اَ لْاٰخِـرَۃسے مراد آنحضرتؐ کے بعد نازل ہونے والی وحی پس اگر قرآن کریم میں اس لفظ کے استعمال کی کثرت کو دیکھا جائے تو اس جملہ کے یہ معنے ہوں گے کہ یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں (مگر بالعموم ایسے موقع پر خالی آخرۃ کی جگہ یَوْمُ الآخِرَۃِ کے الفاظ آتے ہیں) لیکن اگر اس آیت کے مضمون اور اُس کے مطالب کو دیکھا جائے تو چونکہ اس جگہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی پر ایمان لانے کا ذکر ہے پھر آپ سے پہلے جو وحی نازل ہوتی رہی اس پر ایمان لانے کا ذکر ہے اس کے بعد آخرۃ پر یقین رکھنے کا ذکر ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آخرۃ سے مراد اس جگہ بعد میں آنے والی وحی ہے اور اس آیت میں تینوں وحیوں پر ایمان لانا متقی کی علامت قرار دیا گیا ہے۔اس وحی پر بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہو چکی تھی اور اس پر بھی جو آپؐ کے بعد نازل ہو گی۔سباق آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ معنے زیادہ چسپاں ہوتے ہیں۔بعض مسلمان اس غلطی میں مبتلا ہیں کہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے بعد وحی کا نزول کس طرح ہو سکتا ہے ؟ لیکن یہ وہم اُن کا قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ صاف طورپر مسلمانو ںکی نسبت فرماتا ہے۔اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ۔(حٰم سجدة :۳۱) یعنی جو مسلمان یہ اعلان کر کے کہ اللہ ہمارا رب ہے تمام مصائب کو برداشت کریں گے اور استقامت دکھائیں گے خدا تعالیٰ کے فرشتے ان پر یہ کہتے ہوئے نازل ہوں گے کہ نہ آئندہ کا