تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 203

اہل سمجھا جاتا ہے اور نہ صرف الفاظِ کتاب اُسے دیئے جاتے ہیں بلکہ فہم کلام بھی اُسے عطا کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی فطرت اس کلام کے مفہوم کے مطابق اور مناسب ہوتی ہے اور جب یہ حقیقت ہو تو پھر یہ کہناکہ جب کلام موجود ہے تو کلام ل<mark>ان</mark>ے والے میں اور ہم میںکیا فرق ہے ہم کلام پر ایم<mark>ان</mark> لائیں گے اور اس کا مطلب خود سمجھیں گے کس قدر عقل کے خلاف ہے اور بالکل اسی قسم کا قول ہے جیسے کفار نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے بات ہی کرنی تھی تو ہم سے کیوں نہ کر دی درمی<mark>ان</mark> میں ایک واسطہ ڈالنے کی کیا ضرورت تھی کیا ہم اس کی بات کو نہیں سمجھ سکتے تھے؟ نہ خدا تعالیٰ نے <mark>ان</mark> کفار کے اعتراض کو درست سمجھا نہ یہ مومن کہل<mark>ان</mark>ے والے اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔اور سچ یہی ہے کہ کلامِ الٰہی پر ایم<mark>ان</mark> ل<mark>ان</mark>ے میں کلامِ الٰہی ل<mark>ان</mark>ے والے پر ایم<mark>ان</mark> ل<mark>ان</mark>ا اور اس کی تشریح کو قبول اور تسلیم کرنا بھی شامل ہے کیونکہ کلامِ الٰہی لفظی کلام ہوتا ہے اور کلامِ الٰہی ل<mark>ان</mark>ے والا اس کا جسم<mark>ان</mark>ی نمونہ۔اور اُسے اسی لئے منتخب کیا جاتا ہے تا وہ اپنے عمل سے اس کا نمونہ پیش کرے اور اپنے کلام سے اس کی تفسیر بی<mark>ان</mark> کرے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اسی تشریح کو قبول کیا جائے جو اُس تک یقینی طور پر پہنچی ہو نہ یہ کہ ہر رَطب و یا ِبس جو کسی جھوٹے راوی نے اپنے سے پہلے چند معروف لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دی۔چونکہ اس آیت سے بھی اس مضمون کا تعلق ہے اس جگہ اختصاراً اسے بی<mark>ان</mark> کر دیا گیا ہے مفصّل بحث اس کی اُن آیات کے ماتحت آئے گی جو زیادہ وضاحت سے اس مضمون کی طرف اشارہ کرتی ہیں یا جن آیات سے مذکورہ بالا فاسد عقیدہ کے لوگ استدلال کرتے ہیں۔کلام کے آسم<mark>ان</mark> سے اتارے ج<mark>ان</mark>ے کے محاورہ کا مطلب اس جگہ ایک اور مضمون بھی وضاحت طلب ہے اور وہ کلام کے اتارنے کا محاورہ ہے عام طو رپر جب اسلامی تعلیم سے ناواقف لوگ کلام الٰہی کے اترنے کا محاورہ قرآن کریم میں پڑھتے ہیں تو خیال کر لیتے ہیں کہ شائد یہ کلام خدا تعالیٰ نے لکھ کر فرشتوں کو دیا اور وہ اسے آسم<mark>ان</mark> پر سے زمین پر لائے اور رسول کے ہاتھ میں دے دیا۔بلکہ غیر مذہب والوں کو کیا کہنا ہے خود مسلم<mark>ان</mark>وں میں سے ایک بڑا طبقہ تعلیم ِ اسلام سے ناواقفی کی وجہ سے اب یہی سمجھنے لگ گیا ہے کہ شائد کوئی چیز آسم<mark>ان</mark> پر سے زمین پر مادی طو رپر اترتی ہے اور رسول کو ملتی ہے۔لیکن یہ عقیدہ کئی غلطیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے۔(۱) <mark>ان</mark> لوگوں نے غور نہیں کیا کہ آسم<mark>ان</mark> سے کیا مراد ہے (۲) <mark>ان</mark>ہوں نے غور نہیںکیا کہ فرشتے کیا ہیں اور <mark>ان</mark> کے اعمال کس طرح ظاہر ہوتے ہیں؟ (۳) <mark>ان</mark>ہوں نے یہ غور نہیں کیاکہ اللہ تعالیٰ کے احکام کس ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں (۴) <mark>ان</mark>ہوں نے غور نہیںکیا کہ نزول کے کیا معنے ہیں؟ <mark>ان</mark> چار امور پر غور نہ کرنے کے سبب سے <mark>ان</mark> کو مذکورہ بالا غلط عقیدہ میں مبتلا ہونا پڑا ہے۔