تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 202

اہل کتاب میں سے وہ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ پر بھی ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی جو اے مسلمانو! تم پر نازل ہوا ہے اور اس پر بھی جو اِن اہل کتاب پر نازل ہوا ہے۔ان دو قسم کی نسبتوں سے صاف ظاہر ہے کہ جہاں قوم پر نزول کتاب کا ذکر کیا گیا ہے وہاںاس امر پر زور دینا مطلوب ہے کہ اس قوم اور اس کتاب کے حالات بالکل متناسب ہیں اور اس قوم کے لئے اس کتاب پر عمل کئے بغیر کوئی چارہ نہیں اور جہاں رسول پر کتاب نازل ہونے کا ذکر ہے وہاں اس مناسبت کی طرف اشارہ ہے جو اس رسول کی فطرۃ کو اس کتاب سے حاصل ہے اور صر ف کتاب کا ذکر ہی مطلوب نہیں بلکہ یہ بتانا بھی مطلوب ہے کہ اس کتاب کی عملی تفسیر اور زندہ نمونہ اس کے وجود میں موجود ہے جس پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے اگر یہ نہ ہوتا تو کسی جگہ اُ نْزِلَ اِلَیْکُمْ اور کسی جگہ مَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ یا اٰتَیْنَا مُوْسٰیکہہ کر دو مختلف نسبتوں کی طرف اشارہ نہ کیا جاتا بلکہ صرف یہ کہہ دیا جاتا کہ قرآن کریم پر ایمان لائو یا تورات پر ایمان لائو۔جب کسی کتاب کا نام رکھ دیا جائے تو اس کا ذکر لمبے چوڑے جملوں سے َعبث اور فضول ہو جاتا ہے اگر اس کی کلام حکیم میں کتاب کے نام کو چھوڑکر اور الفاظ میں اس کتاب کا ذکر کیا جائے تو ماننا پڑے گا کہ اس طریق بیان میں کوئی زائد فائدہ مدنظر رکھا گیا ہے اور وہ فائدہ آیت زیر بحث میں یہی مدنظر ہے کہ کتاب کو مُنَزَّل اِلَیْہ وجود کی طرف نسبت دے کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ نہ صرف یہ کتاب ہادی ہے بلکہ وہ وجود بھی ہادی ہے جس پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے چنانچہ اس اشارہ کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دوسری جگہ واضح الفاظ میں بھی بیان فرما دیا ہے۔فرماتا ہے وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ (الانعام :۱۲۵) یعنی جب کفار کو نبیوں کے الہام کے ذریعہ سے کوئی نشان دکھایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ جب تک اسی طرح ہم پر کلام نازل نہ ہو جس طرح ان مدعیانِ نبوت پر نازل ہوا ہے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہے کہ اس کا کلام کس پر نازل ہو اور کس پر نازل نہ ہو۔پس جس کو وہ اس کلام کے نزول کے مناسب حال سمجھتا ہے اسی کے ذریعہ کلام بھجواتا ہے۔یہ آیت واضح طور پر اس امر کو ثابت کر دیتی ہے کہ کلامِ الٰہی محض ایک ہر کارہ کے ذریعہ سے نہیں بھیجا جاتا بلکہ وہ ایک ایسے شخص کے ذریعہ سے بھجوایا جاتا ہے جو اس کا صحیح مفہوم لوگوں کو بتا سکے اور اس کا مطلب سمجھا سکے۔اگر صرف الفاظ پہنچانے مطلوب ہوتے تو ہر نبی کی قوم میں اچھے اچھے ادیب موجود تھے ان کے ذریعہ سے وہ کلام پہنچایا جا سکتا تھا۔مشہور ادیبوں اور شاعروں کو چھوڑ کر بالعموم اُمّیوں اور ظاہر بینوں کی نگاہ میں کم علم لوگوں کی معرفت اس کلام کو بھجوانے کے تویہی معنے ہیں کہ اس کلام کا مطلب بیان کرنے کی کلام لانے والے سے امید کی جاتی ہے اور دوسروں کی نسبت اس کلام کی باریکیوں کو سمجھنے کا اُسے زیادہ