تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 199
سلوک کرتا ہے ورنہ وہ اس کے نقش کو اپنے دل میں پیدا نہیں کر سکتا۔پس خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کر کے اس کے بندوں سے حسن سلوک کرنا ایک لازمی امر ہے اور خدا تعالیٰ کے تعلق کا ایک نشان ہے اور اسی طبعی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے قرآن کریم نے اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ کو مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ سے پہلے رکھا ہے۔وَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ اور جو اس پر جو تجھ پر نازل کیا گیا ہےاور جو تجھ سے پہلے نازل کیا گیا ہے ایمان لاتے ہیں قَبْلِكَ١ۚ وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ يُوْقِنُوْنَؕ۰۰۵ اور وہ آئندہ ہونے والی (معہود باتوں ) پر (بھی )یقین رکھتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔یُؤْمِنُوْنَ۔یُؤْمِنُوْنَ کے لئے دیکھو حَلِّ لُغات سورۃ بقرة آیت ۴۔اُ نْزِلَ۔اُ نْزِلَ اَ نْزَلَ سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے اور اَ نْزَلَ اللّٰہُ الْکَـلَامَ کے معنے ہیںاَوْحٰی بِہٖ۔اللہ تعالیٰ نے کسی کلام کو بذریعہ وحی نازل فرمایا (اقرب) پس وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ کے معنے ہوں گے اور وہ لوگ جو اس کلام پر جو تجھ پر نازل کیا گیا ہے ایمان لاتے ہیں۔اَ لْاٰخِرَۃُ۔اَ لْاٰخِرَۃُ اَ لْاٰخِرُ کا مؤنث ہے اور اَ لْاُ وْلٰی کے مقابل پر بولا جاتا ہے اور صفت کے طور پر استعمال ہوتا ہے (اقرب) یہاں پر اس کا موصوف محذوف ہے معنی یہ ہوں گے کہ آئندہ آنے والی، آئندہ ہونے والی۔یُوْقِنُوْنَ۔یُوْقِنُوْنَ اَیْقَنَسے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اَیْقَنَ الْاَمْرَ وَاَیْقَنَ بِہٖ کے معنے ہیں عَلِمَہٗ وَتَحَقَّقَہٗ۔یعنی کسی بات کو معلوم کیا اور اس کی پوری تحقیق کرتے ہوئے اپنے شک و شبہ کو دور کر لیا۔اور اَلْیَقِیْنُ (جو اَیْقَنَ کا مصدر ہے) کے معنے ہیں۔اِزَاحَۃُ الشَّکِّ وَتَحْقِیْقُ الْاَمْرِ۔اپنے شک کو دور کر لینا اور کسی معاملہ کی پوری تحقیق کر کے حقیقت پر قائم ہو جانا۔(اقرب) تفسیر۔متقیوں کی تین اور صفات کا ذکر اس آیت میں متقیو ںکی تین اور صفات بیان کی گئی ہیں اور اس آیت کی پہلی اور گزشتہ آیت کو ملا کر چوتھی علامت متقی کی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بیان فرمائی ہے کہ جو کلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے متقی اس پر ایمان لاتے ہیں۔اس صفت کے بیان کرنے میں یہ حکمت ہے کہ انسان کے لئے صرف نیک نیتی کافی نہیں ہوتی بلکہ صحیح طریق عمل کا اختیار کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔