تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 197
رہیں گے اور وہ بجائے خالق کی طرف جانے کے سیاسیات میں اُلجھ کر رہ جائے گا۔اور اگر اس کا موجب طبعی نرمی ہو تب بھی ایسے شخص کو خدا تعالیٰ کی طر ف پھیرنے والا موجب کوئی موجود نہیں۔کیونکہ ایسا شخص کسی عقلی سبب سے مخلوق سے حسن سلوک نہیں کرتا بلکہ محض طبعی نرمی کی وجہ سے ایسا کام کرتا ہے۔اس لئے اس کی عقل اُسے کسی دوسرے راستہ کی طرف راہنمائی ہی نہیں کرتی اور نہ کر سکتی ہے۔بعض لوگ اس موقع پر کہا کرتے ہیں کہ ُحبِّ وطن نہیں بلکہ حبِّ انسانیت انسان کو بنی نوع سے حسن ِ سلوک کی طرف راغب کرتی ہے اور ایسا انسان یقینا سیاسیات سے بالا رہتا ہے لیکن یہ دعویٰ بھی بلا دلیل ہے۔کیونکہ ہر فعل کا کوئی طبعی محرک ہوتا ہے اور اُسی کے مطابق اس کے خیالات کی رَو دوسری اطراف کی طرف پھرتی ہے۔پس اس صورت میں یہ سوال پیدا ہو گا کہ انسانیت کی محبت کی وجہ سے بنی نوع انسان سے حسن سلوک کرنے والے شخص کے لئے محرک کیا ہوگا۔ظاہر ہے کہ اگراس کے افعال کا محرک خدا تعالیٰ کی محبت نہیں توپھر اس کے لئے محرک یہی خیال ہو سکتا ہے کہ چونکہ باقی انسان بھی میری طرح کے انسان ہیں اس لئے بوجہ ہم جنس ہونے کے مجھے اُن سے محبت کرنی چاہیے۔ظاہر ہے کہ جو شخص دوسرے انسانوں سے اس لئے محبت کرتا ہے کہ وہ اُسی کی طرح کے انسان ہیں وہ درحقیقت اپنے آپ سے محبت کرتا ہے اور اس کی اپنی ذات کی محبت اُسے کسی اپنے سے بالا وجود کی طرف توجہ نہیں دلا سکتی۔او راس کا خاتمہ بھی اسی حالت میں ہو گا جس حالت پر کہ اس کی ابتدا ہوئی ہے اور وہ محض حبِّ انسانیت کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف راہنمائی حاصل نہیں کر سکتا۔اب صر ف ایک ہی صورت رہ جاتی ہے کہ جو شخص مخلوق سے محبت کرے اُسے خدا تعالیٰ اس کے نیک فعل کی وجہ سے اپنی طرف کھینچ لے۔مگر یہ حالت غیرطبعی ہے کیونکہ یہ صورت اسی شخص کے حق میں پوری ہو سکتی ہے جو خدا تعالیٰ کا علم نہ رکھتے ہوئے مخلوق سے کامل محبت کرے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ کو عقلی طور پر معلوم کر لیتا ہے او رپھر اس کی طرف سے منہ موڑ کر مخلوق کی خدمت پر کفایت کرتا ہے وہ تو ایک زبردست سچائی کا منکر ہے او رہدایت پانے کا مستحق نہیں۔ہاں صرف وہ شخص اس حالت میں ہدایت پانے کا مستحق ہو سکتا ہے جسے خدا تعالیٰ کا علم حاصل نہیں ہوا لیکن اس نے اپنے فطری قویٰ کو صحیح طور پر استعمال کیا اور گو صانع کا وجود اس کی نگہ سے پوشیدہ رہا مگر اس نے اس قدر حصہ سے جو اسے نظر آتا تھا (یعنی مخلوق) اپنے تعلق کو مضبوط کر لیا۔ایسا شخص بے شک باوجود مخلوق سے پہلے تعلق پیدا کرنے کے صانع کی طرف ہدایت پانے کا مستحق ہے۔کیونکہ جس قدر حصہ پر عمل کرنااس کے لئے اس کے علم کے مطابق ممکن تھا اس نے اس پر عمل کر لیا اور اس قسم کی استثنائی حالتو ںمیں مخلوق کو پا کر خالق کو پالینے کے ہم بھی منکر