تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 191

قرآن کریم نے ضروری اور فرض مقرر کیا ہے۔اور اگر کوئی ان اخراجات سے گریز کرے تو اُسے گنہگار قرار دیا گیا ہے۔اور اگر اسلامی حکومت ہو یا اسلامی نظام ہو تو اس کا فرض مقرر کیا گیا ہے کہ وہ یہ اخراجات جبراً کرائے۔اس خرچ کی تفصیلات بھی آئندہ حسب موقع بیان ہوں گی۔حق الخدمت (۸) آٹھویں قسم خرچ کی جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے۔حق الخدمت ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی کا کام کرے تو اس کا مناسب اجر اُسے دیا جائے اور اس سے نیک سلوک کیا جائے۔اس خرچ کی ایک مثال قرآن کریم کا وہ حکم ہے جو اولاد کو دُودھ پلوانے کے متعلق آتا ہے۔اس بارے میں قرآن کریم کا حکم ہے کہ اگر اپنے کسی بچہ کو کسی دوسری عورت سے دُودھ پلوانا چاہو تو اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ دودھ پلانے والی عورت کو سَلَّمْتُمْ مَّاۤ اٰتَيْتُمْ بِالْمَعْرُوْفِ (البقرة : ۲۳۴) یعنی جو حق الخدمت حسب دستور اور ملک کے اقتصادی حالات کے مطابق اور اپنی مالی حالت کے مطابق تم اُسے دینے کا وعدہ کرو اُس کے سپرد کر دو۔اس حکم میں بتایا گیا ہے کہ حق الخدمت کے لئے ضروری ہے کہ (۱) بلا حجت ادا کر دیا جائے اوراس کے ادا کرنے کا انسان ایسا عہد کر لے کہ گویا اداکر ہی دیا ہے (۲) اس کے ادا کرنے میں معروف کو مدِّنظر رکھا جائے یعنی ( الف ) ملک کی اقتصادی حالت کے مطابق ادا کیا جائے یعنی اس قدر کم نہ ہو کہ اس وقت کی اقتصادی حالت کے مطابق اس سے دُودھ پلانے والی کا گزارہ نہ ہو سکے (ب) پہلی حد بندی تو کم سے کم تھی اس سے زائد یہ بھی مدنظر رکھو کہ اگر تمہاری مالی حالت عام لوگوں سے اچھی ہو تو ایسا حق الخدمت اداکرو جو تمہاری مالی حالت کے بھی مطابق ہو۔یعنی کم سے کم حق الخدمت تو وہ ہو جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق گزارہ کے لئے کافی ہو۔لیکن اگر ہو سکے تو اس سے زیادہ دو۔حق الخدمت کا ایک زرّیں اصول اس حکم کے ذریعہ سے قرآن کریم نے حق الخدمت کا ایک ایسا زریں اصل بتا دیا ہے کہ اگر اس کے مطابق حق الخدمت مقرر کیا جائے تو مزدو راور مالک کے جھگڑوں کا بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے۔مگر اس مضمون کو تفصیل سے آیت مذکورہ بالا اور اس کے ہم معنے آیات کے ماتحت بیان کیا جائے گا۔ادائِ احسان اور اس کے مستحقین (۹) نویں قسم خرچ کی قرآن کریم سے۔ادائِ احسان کی ثابت ہوتی ہے۔جیسے مثلاً والدین کی خدمت کا حکم ہے۔یہ سلوک نہ تو حق الخدمت کہلا سکتا ہے کیونکہ والدین خدمت نہیں کرتے بلکہ ایک طبعی جوش سے بچے کی پرورش کرتے ہیں اور بچہ ان کو اس کام پر مقرر نہیں کرتا نہ کوئی اور انسان انہیں مقرر کرتا ہے اور نہ انہیں کسی بدلہ کی تمنا ہوتی ہے۔پس والدین کا سلوک بچے سے خدمت نہیں ہے بلکہ احسان ہے۔اور اگر بڑا ہو کر کوئی بچہ اپنے والدین کی خدمت کرتاہے تو وہ ان کا حق الخدمت ادا نہیں کرتا۔بلکہ اُن کے احسان کا بدلہ اتارنے