تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 190

فدیہ (۵) خرچ کی پ<mark>ان</mark>چویں قسم جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے فدیہ ہے۔فدیہ کے معنے صدقہ کے بھی ہیں لیکن اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جو کمی کسی نیک عمل میں رہ جائے اُسے خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ مال خرچ کر کے پورا کیا جائے۔چن<mark>ان</mark>چہ سورۃ بقرہ ع ۲۴ آیت نمبر ۱۹۷ میں حج کے احکام میں لکھا ہے کہ ایام احرام میں سر نہیں منڈ<mark>ان</mark>ا چاہیے۔لیکن اگر کسی کے سر میں کوئی بیماری ہو اور سر منڈو<mark>ان</mark>ا پڑے تو بطور فدیہ کچھ صدقہ کرے یا روزے رکھے یا قرب<mark>ان</mark>ی دے۔پس فدیہ وہ خرچ ہے جو کسی عمل میں کمی رہ ج<mark>ان</mark>ے کے خیال سے دیا جاتا ہے اور گویا عبادت کی اس کمی کو اس خرچ سے پورا کیا جاتا ہے۔کفّارہ (۶) خرچ کی ایک چھٹی قسم قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا نام کفاّرہ ہے۔کفارہ کا لفظ ردِّ بلا کرنے والے فعل کے بھی ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک اور اصطلاح بھی قرآن کریم کی ہے۔اور اس کے رُو سے کفارہ اس خرچ یا اس عبادت کا نام ہے جو کسی گناہ کا وبال دور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔چن<mark>ان</mark>چہ <mark>ان</mark> معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں سورۃ مائدہ کے بارہویں اور تیرہویں رکوع میں آتا ہے۔اس میں اور فدیہ میں یہ فرق ہے کہ فدیہ تو اس صورت میں ادا کیا جاتا ہے جب کوئی فعل اللہ تعالیٰ کی اجازت سے کیا جائے اور اس اجازت سے کوئی حکم جو دوسری صورت میں ضروری تھا ترک کرنا پڑے۔یا جب کوئی عمل کر تو لیا جائے مگر اس خیال سے کہ اس میں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو کچھ صدقہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔مگر کفاّرہ اس صور ت میں دیا جاتا ہے کہ جب کوئی گناہ صادر ہو جائے۔یا گناہ تو صادر نہ ہو لیکن گناہ کے صدور کے قریب ہو جائے اور اس کی <mark>غرض</mark> اس گناہ کے وبال سے بچنا اور توبہ کا ایک عملی نش<mark>ان</mark> قائم کرنا ہوتی ہے (اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ <mark>ان</mark>شاء اللہ آیاتِ متعلقہ کے ماتحت بی<mark>ان</mark> کیا جائے گا) اس جگہ ایک <mark>لطیف</mark>ہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔کہ قرآن کریم تو کفاّرہ کا مفہوم یہ لیتا ہے کہ ایک تائب اپنی توبہ کا عملی ثبوت دلی ندامت اور زب<mark>ان</mark>ی اقرار کے علاوہ کچھ مالی یا جسم<mark>ان</mark>ی قرب<mark>ان</mark>ی کے ذریعہ سے دے۔لیکن مسیحیوں کے نزدیک کفارہ کا یہ مفہوم ہے کہ ایک اعلیٰ وجود نے اپنے آپ کو گنہگار کے پیدا ہونے سے بھی پہلے قرب<mark>ان</mark> کر دیا۔گویا توبہ کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔کیونکہ توبہ تو الگ رہی مسیحیوں کا کفاّرہ گناہ بلکہ گنہگار کے پیدا ہونے سے بھی پہلے اداکیا جا چکا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ایسے کفارہ کو توبہ سے دُور کا تعلق بھی نہیں ہو سکتا۔تعاونی خرچ (۷) ساتویںقسم خرچ کی قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ مدنی نظام کی ترقی کے لئے کچھ اخراجات <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پر واجب کئے گئے ہیں۔جیسے خاوند کا بیوی پر خرچ اور باپ کا اولاد پر خرچ۔<mark>ان</mark> اخراجات کو بھی