تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 190
فدیہ (۵) خرچ کی پانچویں قسم جو قرآن کریم سے ثابت ہوتی ہے فدیہ ہے۔فدیہ کے معنے صدقہ کے بھی ہیں لیکن اس کا اصل مفہوم یہ ہے کہ جو کمی کسی نیک عمل میں رہ جائے اُسے خدا تعالیٰ کی راہ میں کچھ مال خرچ کر کے پورا کیا جائے۔چنانچہ سورۃ بقرہ ع ۲۴ آیت نمبر ۱۹۷ میں حج کے احکام میں لکھا ہے کہ ایام احرام میں سر نہیں منڈانا چاہیے۔لیکن اگر کسی کے سر میں کوئی بیماری ہو اور سر منڈوانا پڑے تو بطور فدیہ کچھ صدقہ کرے یا روزے رکھے یا قربانی دے۔پس فدیہ وہ خرچ ہے جو کسی عمل میں کمی رہ جانے کے خیال سے دیا جاتا ہے اور گویا عبادت کی اس کمی کو اس خرچ سے پورا کیا جاتا ہے۔کفّارہ (۶) خرچ کی ایک چھٹی قسم قرآن کریم سے ثابت ہے اور اس کا نام کفاّرہ ہے۔کفارہ کا لفظ ردِّ بلا کرنے والے فعل کے بھی ہیں۔لیکن اس کے علاوہ ایک اور اصطلاح بھی قرآن کریم کی ہے۔اور اس کے رُو سے کفارہ اس خرچ یا اس عبادت کا نام ہے جو کسی گناہ کا وبال دور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔چنانچہ ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم میں سورۃ مائدہ کے بارہویں اور تیرہویں رکوع میں آتا ہے۔اس میں اور فدیہ میں یہ فرق ہے کہ فدیہ تو اس صورت میں ادا کیا جاتا ہے جب کوئی فعل اللہ تعالیٰ کی اجازت سے کیا جائے اور اس اجازت سے کوئی حکم جو دوسری صورت میں ضروری تھا ترک کرنا پڑے۔یا جب کوئی عمل کر تو لیا جائے مگر اس خیال سے کہ اس میں کوئی کمی نہ رہ گئی ہو کچھ صدقہ کر کے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔مگر کفاّرہ اس صور ت میں دیا جاتا ہے کہ جب کوئی گناہ صادر ہو جائے۔یا گناہ تو صادر نہ ہو لیکن گناہ کے صدور کے قریب ہو جائے اور اس کی غرض اس گناہ کے وبال سے بچنا اور توبہ کا ایک عملی نشان قائم کرنا ہوتی ہے (اس مضمون کو تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ آیاتِ متعلقہ کے ماتحت بیان کیا جائے گا) اس جگہ ایک لطیفہ یاد رکھنے کے قابل ہے۔کہ قرآن کریم تو کفاّرہ کا مفہوم یہ لیتا ہے کہ ایک تائب اپنی توبہ کا عملی ثبوت دلی ندامت اور زبانی اقرار کے علاوہ کچھ مالی یا جسمانی قربانی کے ذریعہ سے دے۔لیکن مسیحیوں کے نزدیک کفارہ کا یہ مفہوم ہے کہ ایک اعلیٰ وجود نے اپنے آپ کو گنہگار کے پیدا ہونے سے بھی پہلے قربان کر دیا۔گویا توبہ کا اس سے کوئی تعلق ہی نہیں۔کیونکہ توبہ تو الگ رہی مسیحیوں کا کفاّرہ گناہ بلکہ گنہگار کے پیدا ہونے سے بھی پہلے اداکیا جا چکا ہے۔اور ظاہر ہے کہ ایسے کفارہ کو توبہ سے دُور کا تعلق بھی نہیں ہو سکتا۔تعاونی خرچ (۷) ساتویںقسم خرچ کی قرآن کریم سے یہ ثابت ہوتی ہے کہ مدنی نظام کی ترقی کے لئے کچھ اخراجات انسان پر واجب کئے گئے ہیں۔جیسے خاوند کا بیوی پر خرچ اور باپ کا اولاد پر خرچ۔ان اخراجات کو بھی