تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 185
کی ملونی سے صاف کر دے گا اور قومی ترقی کے سامان پیدا کرے گا۔صدقہ سے مراد اس جگہ زکوٰۃ مفروضہ ہے۔یہ لفظ صدقہ کا علاوہ ان متد اول معنوں کے جن معنوں میں کہ یہ اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے اور بہت سے معنوں میںبھی استعمال ہوتا ہے جن میں سے ایک زکوٰۃ مفروضہ بھی ہے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بغیر اس قسم کی زکوٰۃ لینے کے لوگوں کے مال پاک نہیں ہو سکتے کیونکہ جب تک لوگوں کا حق ادا نہ ہو مال پاک نہیں ہو سکتا اور نہ مالدار کا تقویٰ مکمل ہو سکتا ہے یہ زکوٰۃ حکومت لیتی ہے اور اسی کی معرفت خرچ ہو سکتی ہے یا حکومت نہ ہو تو اسلامی نظام اس کے وصول کرنے اور خرچ کرنے کا حقدار ہے جیسے کہ خُذْ یعنی لے کے لفظ سے ظاہر ہے۔(۲) نفلی صدقہ اور اس کا حکم نفلی صدقہ جس کی بناء رحم اور شفقت پر ہے یہ کسی مقدارِ معیّن میں فرض نہیں بلکہ ہمسائیوں کی ضرورت اور دینے والے کی مالی حالت اور اس کے دل کے تقویٰ پر اُسے چھوڑا گیا ہے۔صدقہ کا حکم اس شکل میں اس لئے دیا گیا ہے تا ہر شخص اپنے تقویٰ اور اپنی مالی حالت کے مطابق اسے ادا کرے چونکہ اس کی حکمت تعاون باہمی کی روح کو پیدا کرنا ہے اس لئے یہ خرچ حکومت کی وساطت سے نہیں رکھا گیا بلکہ ہر فرد کو نصیحت کی گئی ہے کہ وہ خود اس قسم کا خرچ کرے اس کا ارشاد قرآنِ کریم کی اس آیت میں اجمالاً کیا گیا ہے۔اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (البقرة : ۲۷۵) یعنی جو لوگ اپنے مال رات اور دن خرچ کرتے ہیں اور پوشیدہ بھی خرچ کرتے ہیں اور ظاہر بھی خرچ کرتے ہیں وہ اپنے اجر اپنے رب کے پاس پائیں گے اور انہیں نہ آئندہ کا خوف لا حق ہو گا اور نہ سابق کوتاہیوں پر انہیںکوئی گھبراہٹ لاحق ہو گی۔اس آیت کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ یہاں زکوٰۃ کا ذکر نہیں جو فرض ہے اور حکومت کو ادا کی جاتی ہے کیونکہ زکوٰۃ مخفی خرچ نہیں کی جاسکتی پس یہ خرچ نفلی صدقہ کا ہے جو انسان خود کرتا ہے اور حسب موقع کبھی مخفی کرتا ہے کبھی ظاہر۔مخفی اس لئے تاکہ جس کی امداد کرتا ہے لوگوں میں شرمندہ نہ ہو اور ظاہر اس لئے کہ تا ان لوگوں کو بھی صدقہ کی تحریک ہو جو اس نیکی میں ابھی کمزور ہیں ورنہ اسے اپنی ذات کے لئے کسی شہرت کی تمنا نہیںہوتی ایسے لوگوں کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ اپنے اس فعل کا بدلہ خدا سے پائیں گے۔صدقات کے خرچ کے مواقع جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے اس خرچ کے دو مواقع قرآن کریم سے معلوم ہوتے ہیں (۱) ان افرا دپر خرچ کیا جائے جو اپنی ضرورتوں کے لئے مطالبہ کر لیتے ہیں جیسے کہ وہ غرباء جو سوال کر لیتے ہیں اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے اسلام ان پر بھی حسب موقع خرچ کرنے کو پسند کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے وَ فِيْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ (الذّٰریٰت :۲۰) مومنوں کے اموال میں سائلوں کا بھی حق ہوتا ہے۔