تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 182
میں سے خرچ کرتے ہیں۔لفظ رزق میں مال خرچ کرتے ہوئے نہ گھبرانے کی نصیحت اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مال خرچ کرنے پر گھبرانا عقل کے خلاف ہے کیونکہ یہاں خدا تعالیٰ کی نعمت کا نام رزق رکھا گیا ہے اور رزق اس َعطاء کو کہتے ہیں جو جاری ہو اور جو ایک ہی دفعہ ختم نہ ہو جائے پس رزق کا لفظ استعمال کر کے اس جگہ یہ اشارہ کیا گیاہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق جو خرچ کرے گا اس کا مال بڑھے گا کم نہ ہو گا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس پر بار بار انعام کر ے گا۔علم اور فہم اور عقل اور جسمانی قوتوں کے خرچ کرنے سے ان اشیاء کا بڑھنا تو ظاہرہی ہے۔جو شخص اپنے علم سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتا ہے اس کا علم ہمیشہ بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔جو لوگ درس و تدریس میں مشغول رہتے ہیں ان کا علم ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے اسی طرح جو لوگ اپنی عقل اور اپنے فہم سے دوسروں کو فائدہ پہنچاتے ہیں ان کی عقل اور ان کا فہم بڑھتا ہے گھٹتا نہیں اسی طرح جسمانی قوتوں کو صحیح طرح خرچ کرنے والے کی قوت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں اسی طرح مال خرچ کرنے والے کا مال بھی بڑھتا ہے مثلاً یہ ظاہر امر ہے کہ جو شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اپنے نفس پر خرچ کرے گا اس کے جسم میں زیادہ قوت پیدا ہو گی اور وہ زیادہ کما سکے گا اسی طرح جو شخص صحیح طو رپر اپنی بیوی اور اپنی اولاد پر خرچ کرے گا اس کے ہاں کمانے والوں کی تعداد بڑھے گی۔جو اپنے ہمسائیوں پر اور دوستوں پر مال خرچ کرے گا اس کے معاون اور مددگار بڑھیں گے جو غرباء پر خرچ کرے گا اس کی قوم کی مالی حالت ترقی کرے گی اور اس کا ردِ ّعمل خود اس کے مال کے بڑھنے کی صورت میں ہو گا غرض مال کا صحیح خرچ کبھی مال کو ضائع ہونے نہیں دیتا بلکہ اسے بڑھاتا ہے پس علاوہ اس کے کہ خدا تعالیٰ کا فضل اس شخص پر روحانی طو رپر نازل ہوتا ہے خدا تعالیٰ نے طبعی قوانین بھی اسی طرح بنائے ہیں کہ اُن کی مدد سے بھی ایسے حالات میں مال بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا اور صرف کم عقل لوگ اس قسم کے خرچ سے گھبراتے ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنے مالوں کو نقصان پہنچاتے ہیں محفوظ نہیں کرتے۔اللہ تعالیٰ کو بندوں کی وساطت سے دوسروں پر خرچ کروانے میں حکمت شاید کوئی اعتراض کرے کہ خدا تعالیٰ کو اس کی کیا ضرورت پیش آئی کہ بندوں کی وساطت سے دوسروں پر خرچ کر وائے کیوں نہ اس نے سب انسانوں کو براہِ راست ان کا حصہ دے دیا ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محض قلت ِ تدبرّ کا نتیجہ ہے کہ خیال کیا جاتا ہے کہ بعض لوگ خرچ کرنے والے ہیں اور بعض دوسروں کی امداد پر گزارہ کرتے ہیں کیونکہ در حقیقت سب ہی لوگ ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے ہیں۔امراء ظاہر میں غرباء پر مال خرچ کرتے ہیں لیکن حق یہ ہے کہ غرباء