تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 181

ایک منبع ہوتا ہے پس سارا مال خرچ کرنے سے یہی مراد ہو گی کہ وہ اس منبع تک کو خرچ نہ کر دے مثلاً ایک شخص کا رأس المال اگر اس کی قوتِ بازو اور اس کی عقل یا اس کا فن ہے تو وہ اگر اپنا وہ مال جو روپیہ کی صورت میں اس کے پاس ہے سب کا سب خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتا ہے تو وہ گنہگار نہیں کیونکہ اس کا رأس المال موجود ہے وہ اس سے اور مال کما لے گا لیکن اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ اس کا رأس المال اس کی دماغی قوت یا جسمانی قوت نہیں بلکہ اسے اپنی روزی کمانے کے لئے کسی قدر مال کی ضرورت ہے تو اس کے لئے اپنا سارا مال خرچ کر دینا جائز نہ ہو گا۔حضرت ابوبکرؓ تجارتی کامو ںمیں بہت ہوشیار تھے وہ اپنی عقل سے پھر مال پیدا کر لینے کا ملکہ رکھتے تھے۔مکہ سے نکلتے ہوئے ان کا سب مال قریباً ضائع ہو گیا لیکن مدینہ میں آ کر انہوں نے پھر اور مال کما لیا۔ایک دفعہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص چندہ کی تحریک کی توآپؓ نے اپنے گھر کا سب اثاثہ چندہ میں دے دیا اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ابوبکر اپنے گھر میں کیاچھوڑا ہے تو انہوں نے جواب دیا حضور! اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑا ہے (ترمذی ابواب المناقب مناقب ابی بکر الصدیقؓ) ایسے شخص کے لئے اپنا سارا مال دے دیناکوئی گنہ نہیں کیونکہ اس کا رأس المال اس کا دماغ ہے چنانچہ اس کے بعد بغیر اس کے کہ حضرت ابوبکر ؓ لوگوں سے سوال کرتے آپ نے پھر اور مال کما لیا اور اپنا گزارہ اپنے ہاتھوں کی کمائی سے کرتے رہے کسی کے دست نگر نہ ہوئے۔پس سارے مال کی تعریف ہر شخص کے حالات کے لحاظ سے مختلف ہو گی۔پیشہ ور کے لحاظ سے اور تاجر کے لحاظ سے اور۔اور اس تاجر کے لحاظ سے اورجو تجارت صرف روپیہ کے زور سے نہیں کرتا بلکہ اپنے وسیع تجارتی علم اور تجربہ کے زور سے کرتا ہے اورمزید سرمایہ پیدا کر لینا اس کے لئے مشکل نہیں ہوتا بلکہ دوسرے لوگ اسے خود اپنا سرمایہ پیش کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ اس کو سرمایہ دے کر خود اپنے مال کو بڑھائیں گے۔آیت ھٰذا میں حلال اشیاء کے خرچ کرنے کا حکم مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ سے یہ بھی استدلال ہوتا ہے کہ انسان کو حلال اشیاء خرچ کرنی چاہئیں یہ نیکی نہیں کہ حرام مال یا حرام اشیاء خرچ کرے۔بعض لوگ رشوتیں لے کر اور بعض ڈاکے ڈال کر مال جمع کرتے ہیں اور غریبوں میں تقسیم کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ نیکی کرتے ہیںحالانکہ بدی سے بدی پیدا ہو سکتی ہے نیکی نہیں ایسے لوگ بدیوں کی بنیاد رکھتے ہیں۔ان کا صر ف اس قدر کام تھا کہ جو خدا تعالیٰ نے ان کو دیا تھا اس میں سے خرچ کرتے اگر کوئی شخص دوسرے کے مال سے جس پر اس کا حق نہیں دوسرے کو کچھ دے دیتا ہے وہ اس حکم کا پورا کرنے والا نہیں کہلا سکتا کیونکہ وہ اس رزق میں سے خرچ نہیںکرتا جو خدا تعالیٰ نے اسے دیا تھا بلکہ اس میں سے خرچ کرتا ہے جو خدا تعالیٰ نے اسے نہیں دیا تھا اور یہ آیت کہتی ہے کہ جو ہم نے ان کو دیا ہے اس