تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 173
کھڑے ہوتے تھے مغربی ممالک میں گھٹنوں کے َبل گرنے کو انتہائی تذلل کا مقام سمجھا جاتا ہے۔ہندوستان میں رکوع کی طرح جھکنا ادب کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے اسی طرح اپنے قابلِ تحریم بزرگوں اور بُتوں کے آگے سجدہ کیا جاتا ہے۔اسلام چونکہ سب دنیا کے لئے ہے اس نے اپنی عبادت میں ان سب طریقوں کو جمع کر دیا ہے تاکہ ہر قوم کے لوگوں کے دلوں میں اس طریقِ عبادت سے وہ خشیت پیدا ہو جو عبادت میں پیدا ہونی چاہیے کیونکہ ایک تو اپنی قومی عادت کے ماتحت وہ اس خاص ہیئت سے زیادہ متاثر ہوں گے دوسرے اپنی قلبی کیفیت کے ماتحت وہ ان مختلف ہیئتوں سے موقع کے مناسب زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ انسان کے اندر جو مختلف تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں ان کے ماتحت وہ کبھی تو شدّتِ محبت اور شدّتِ ادب کے وقت جھک جاتا ہے کبھی دوزانو ہو جاتا ہے کبھی سامنے کھڑا ہو جاتا ہے اور کبھی سجدہ میں گر جاتا ہے پس اس کے قلب کی جو بھی کیفیت ہو گی اس کے مطابق ہیئت کے وقت اس کے قلب میں جوش پیدا ہو جائے گا اور وہ اپنی عبادت سے پورا فائدہ اُٹھا سکے گا۔علاوہ طبعی کیفیت کے مختلف جسمانی کیفیتوں کے ماتحت بھی ان مختلف حرکات کا اثر انسانی دل پر مختلف پڑتا ہے مثلاً ایک نزلہ کا مریض سجدہ میں تکلیف پاتا ہے او راس حالت میں اسے پورا جوش نہیں آتا لیکن کھڑے ہونے یا قعدہ کی حالت میں اسے پورا جوش دعا کے لئے پیدا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اس کی صحت کے زیادہ مطابق ہوتی ہے مگر ایک دوسرا آدمی جس کی مثلاً لاتوں میں ُضعف محسوس ہو رہا ہو سجدہ میں زیادہ جوش پاتا ہے۔خلاصہ یہ کہ اسلام نے چونکہ عبادت کو ایک اجتماعی فعل قرار دیا ہے اور چونکہ اس نے سب قوموں کو جمع کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے اس لئے اس نے اپنی عبادت میں ان تمام ہیئتوں کو جمع کر دیا ہے جن کے ذریعہ مختلف اقوام کو ادب و محبت کے اظہار کی عادت ہے اور جو مختلف حالتوں میں مختلف انسانوں کے دل میں عقیدت اور ادب کے جذبات کو اُبھار دیتی ہیں اور اس کی نماز ایسی جامع اور کامل ہے کہ اور کسی مذہب کی نماز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اسی خصوصیت کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اسلام نے اجتماعی نمازوں کا حکم دیا ہے کیونکہ جب مختلف استعدادوں کے لوگ ایک جگہ جمع ہوںتو ایک دوسرے کے قلب کی حالت کا اثر دوسرے پر پڑتا ہے اور کمزور قویٰ کی قوت ایمان کو اپنے دل پر تاثیر ڈالتا ہوا محسوس کرتا ہے۔چونکہ کبھی کبھی انسان کے دل میں َخلوت میں عبادت کا جوش بھی پیدا ہوتا ہے اس لئے اسلام نے فرض نمازوں کے علاوہ نوافل کی طرف بھی توجہ دلائی ہے جیسا کہ تہجد کی نماز ہے اور اس طرح انسان کی اس مخصوص ضرورت کو بھی پورا کر دیا گیا ہے۔