تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 172

پڑھے خواہ کدھر ہی منہ کر کے نماز پڑھے۔(ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ماجاء فی الرجل یصلّی لغیر القبلۃ فی الغیم) اگر وضو اورتیمم دونوں نہ کر سکے تو اس صورت میں بھی میرے نزدیک نماز ادا کر سکتا ہو تو ادا کر لے جیسے مثلاً جہاز غرق ہو جائے اور کوئی شخص لائف بیلٹ پہن کر سمند رمیں کود پڑے اور عرصہ تک اسے بچانے والا کوئی نہ آوے تو نہ یہ وضو کر سکے گا نہ تیمم اس سورۃ میں اس کا اشارہ کے ساتھ ہی نماز پڑھ لینا درست ہو گا اور جن فقہاء کے نزدیک اس طرح پانی میں ہونا وضو ہی کا مترادف ہے ان کے خیال کی رو سے تو اس کا وضو ہی ہو گا کیونکہ وضو والے سب اعضاء دُھل چکے ہوںگے۔نماز کی شکل میں حکمت بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں جو قیام اور رکوع اور سجدہ اور قعدہ مقرر کئے گئے ہیں یہ ایک رسمی سی بات ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ہیئتوں کے اختیارکرنے میں خاص حکمتیں ہیں جو نماز کی تکمیل کے لئے ضروری ہیں اور نماز کا ان پر مشتمل ہونا اسے ایک رسمی عبادت نہیں بناتا۔ان ہیئتوںپر اس کا مشتمل ہونا اسے روحانیت کے لئے مکمل بناتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسانی بناوٹ اس قسم کی ہے کہ جسم کا اثر روح پر اور روح کا اثر جسم پر پڑتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ جو رونی صورت بنائے اس کی آنکھو ںمیں کچھ دیر کے بعد آنسو آ جاتے ہیں اور دل بھی غمگین ہو جاتا ہے اور جس غمگین آدمی کے پاس بیٹھ کر لوگ ہنسیں اور اسے ہنسائیں تھوڑی دیر کے بعد اس کے دل پر سے غم کا اثر کم ہونے لگتا ہے او راس کے اُلٹ یہ بھی ہوتا ہے کہ دل کے غم اور خوشی کا اثر انسان کے چہرہ اور دوسرے اعضاء پر پڑتا ہے حتیٰ کہ بعض دفعہ ایک رات کے صدمہ سے بعض لوگوں کے بال تک سفید ہو گئے ہیں اس طبعی قانون کے مطابق اسلام نے عبادت الٰہی میں چند جسمانی افعال بھی شامل کئے ہیں تاکہ وہ ظاہری ہیئتیں جو ادب کا اظہار کرتی ہیں اس کے باطن میںبھی اسی قسم کاجذبہ پیدا کر دیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں ادب اور احترام کے اظہار کے لئے مختلف اقوام نے مختلف شکلو ںکو اختیار کیا ہے بعض قوموں میں ادب کے اظہار کا طریق یہ ہے کہ اپنے بزرگوں کے سامنے سینہ پر ہاتھ رکھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور بعض قوموں میں ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونا ادب کے اظہار کی علامت ہے بعض میں رکوع کی طرح جھک جانا ادب کے اظہار کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے اور بعض قومو ںمیں سجدہ کے طور پر گر جانا ادب کے انتہائی اظہار کے لئے علامت مقرر کیا گیا ہے اور بعض قوموں میں گھٹنوں کے َبلبیٹھنا انتہائی ادب کے لئے علامت قرار دیا گیا ہے چنانچہ اسی وجہ سے مختلف اقوام میں عبادت کے وقت ان مختلف صورتوں کو اختیار کیا جاتا ہے۔ایرانی لوگ اپنے بادشاہ کے سامنے جسے وہ خدا تعالیٰ کا مظہر قرار دیتے تھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے تھے اسی طرح بعض حالات میں وہ ہاتھ چھوڑ کر