تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 171
بھی سورۂ نساء کے رکوع ۱۵ میں آتا ہے۔نماز قبلہ رُخ ہو کر پڑھی جاتی ہے یعنی جہاں بھی کوئی ہو کعبہ کی طرف منہ کر کے جو کہ مکہ مکرمہ میں ہے کھڑا ہوتا ہے اس طرح تمام دنیا کے مسلمانوں کی توجہ ایک مرکز کی طرف جمع ہو جاتی ہے یہ کعبہ کی طرف منہ کرنا اس لئے نہیں کہ اسلام نے کعبہ کو کوئی خدائی صفت دی ہے بلکہ جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اوریہ اسی سورۃ میں آگے آئے گا ایسا اس لئے کیا گیا ہے کہ کسی نہ کسی طرف منہ کر کے کھڑے ہونے کا حکم باجماعت نماز کے لئے ضروری تھا اگر کوئی خاص جہت مقرر نہ کی جاتی اور صفوں میں کھڑے ہو کر ایک جگہ پر لوگ نماز نہ پڑھ سکتے کسی کا منہ کسی طرف ہوتا اور کسی کا کسی طرف تو نماز جماعتی عبادت کس طرح بنتی؟ پس جب جماعتی عبادت کے لئے کسی نہ کسی طرف منہ کرنا ضروری تھا تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دے دیا جس کی نسبت اسلام کا وعدہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے بنایا گیا تھا یہی ہے (آل عمران آیت ۹۷) یہ گھر حضرت ابراہیمؑ سے بھی پہلے کا بنا ہوا ہے مگر حضرت ابراہیمؑ سے پہلے کسی وقت منہدم ہو گیا تھا جس پر خدا تعالیٰ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے اپنے لڑکے اسماعیلؑ کی مدد سے اسے دوبارہ بنایا (بخاری کتاب بدء الخلق باب یزفون النسلان فی المشی) حضرت اسماعیلؑ ابھی بچہ ہی تھے کہ انہیں اور ان کی والدہ کو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس مقام کی خدمت اور اس میں ذکر الٰہی جاری رکھنے کے لئے حضرت ابراہیم ؑ مکہ میں چھوڑ گئے تھے۔(بخاری کتاب بدء الخلق باب یزفون النسلان فی المشی) اور اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی تھی کہ کسی وقت یہ مقام تمام سچے پرستاروں کا مرکز ہو گا (سورہ بقرۃ آیت ۱۲۶ و حج آیت ۲۷) چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ پیشگوئی پوری کی (سورہ بقرۃ آیت ۱۳۰ و سورہ جمعہ آیت۳ ) اس لئے اسی مقام کو مسلمانوں کے ظاہری اجتماع کا مرکز بنایا گیا۔تا انہیں ہمیشہ وہ فرض یاد رہے جو ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ سے جماعت مسلمین کے قیام کی غرض کے طو رپر مقرر کیا گیا تھا۔نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کی وجہ اور حکمت اس کا ثبوت کہ کعبہ عبادت کا حصہ دار نہیں صرف اجتماع کا ذریعہ ہے یہ ہے کہ جب چلتی ہوئی کشتی یا کسی دوسری سواری میں نماز ادا کرنی پڑے تو ایک دفعہ قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز شروع کر لینا کافی ہوتا ہے اس کے بعد سواری کا منہ کدھر بھی ہو جائے نماز میں خلل نہیں پڑتا (ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب فی الصلٰوۃ الی الراحلۃ و ابوداؤد کتاب الصلوٰۃ باب التطوع علی الراحلۃ) اور جب کعبہ کی طرف کا علم نہ ہو سکے تو نماز معاف نہیں ہو جاتی بلکہ جدھر منہ کر کے بھی نماز پڑھ لی جائے جائز ہے بلکہ ضروری ہے کہ نماز