تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 170 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 170

کتابوں میں ان کی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے۔باجماعت نماز کے لئے صف آرائی تمام باجماعت ادا ہونے والی نمازوں کے لئے حکم ہے کہ امام آگے کھڑا ہو اور مقتدی اس کے پیچھے اتنے اتنے فاصلہ پر صفیں باندھ کر کھڑے ہوں کہ سب آسانی سے سجدہ کر سکیں صفوں کو درست کرنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاص طو رپر زور دیتے تھے (ترمذی ابواب الصلوٰۃ باب ما جاء فی اقامۃ الصفوف) قرآن کریم سے بھی اس بارہ میں استدلال ہوتا ہے۔نماز میں سجدہ اور قعدہ کے علاوہ باقی سب حصے کھڑے ہو کر ادا کئے جاتے ہیں لیکن بیمار کے لئے بیٹھ کر اور بیٹھ کر بھی نہ پڑھ سکے تو لیٹ کر اشارہ سے نماز پڑھنا جائز ہے۔نماز کے آداب نماز کے وقت اِدھر اُدھر دیکھنا ،نظر پھرانا، بات کرنا یا نماز سے باہر والے کی بات کی طرف توجہ کرنا اور اسی قسم کے اور کام جو نماز کے فعل میں خلل ڈالیں منع ہوتے ہیں۔(ابو داؤد کتاب الصلٰوۃ باب الالتفات فی الصلٰوۃ و باب النظر فی الصلٰوۃ و باب تشمیت العاطس فی الصلٰوۃ) بلاوجہ کھانسنا، اِدھر ُادھر ہلنا بھی ناجائز ہے۔یہ حکم پہلی تکبیر سے لے کر سلام تک کے وقت کے لئے ہے۔صلوٰۃ خوف کا طریق جب نماز ایسے خوف کے وقت پڑھی جائے کہ نماز پڑھی تو جا سکتی ہو لیکن پورے اطمینان سے نہ پڑھی جا سکتی ہو جیسے مثلاً جنگ کا میدان ہو اور عملاً لڑائی نہ ہو رہی ہو لیکن دشمن حملہ کی تیاری میں ہو یا حملہ کا خوف ہو تو اس صورت میں کئی طرح نماز میں تخفیف جائز ہے ایک مسنون طریق یہ ہے کہ ایک حصہ امام کے ساتھ دو رکعتیں اور زیادہ خطرہ ہو تو ایک رکعت ادا کرے دوسرا حصہ دشمن کی طرف منہ کر کے کھڑا رہے جب پہلا حصہ ایک یا دو رکعت جیسا بھی موقعہ ہو ختم کرے تو جو حصہ کھڑا تھا وہ امام کے پیچھے آ جائے اور پہلا پیچھے ہٹ کر دشمن کی طرف منہ کر کے کھڑا رہے اگر دشمن قبلہ کی طرف ہو تو بہرحال سب کا منہ ایک ہی طرف ہو گا (مسلم کتاب الصلوٰۃ باب صلوٰۃ الخوف) اس نماز کی مختلف صورتیں ہیں جو گیارہ تک پہنچتی ہیں اور خطرہ کی مختلف حالتوں کے مطابق ہیں اس جگہ ان سب کے بیان کا موقع نہیں۔خلاصہ یہ ہے کہ نماز باجماعت کا حکم خطرہ جنگ کی صورت میں مختلف حالات کے ماتحت بدل جائے گا اور موقعہ کے مناسب ان صورتوں کے مطابق جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں بدلتا رہے گا اس نماز کا ذکر قرآن کریم میں سورہ نساء رکوع ۱۵ آیت ۱۰۲ تا ۱۰۵ میں آتا ہے۔اس کے علاوہ جب خطرہ شدید ہو اور سواری پر یا پیدل دوڑ کر دشمن کے مقابلہ کے لئے جانا پڑے یا پیچھے ہٹنا پڑے تو سواری پر ہی یا دوڑتے ہوئے بھی نماز جائز ہے اور اسے جلدی جلدی ادا کرنے کی بھی اجازت ہے اس کا ذکر