تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 169

فوت ہو اور کچھ مسلمان اس کا جنازہ پڑھ لیں تو سب کی طرف سے فرض کا ادا ہونا سمجھ لیا جاتا ہے اور اگر کسی مسلمان کی نماز جنازہ کوئی مسلمان بھی ادا نہ کرے تو سب مسلمان جن کو علم ہوا اور وہ شامل نہ ہوئے مجرم سمجھے جاتے ہیں گویا جنازہ کی ادائیگی انفرادی ذمہ داری نہیں بلکہ قومی ذ مہ داری ہے۔جنازہ کی نماز میں دوسری نمازوں کے برخلاف رکوع اور سجدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے سب حصے کھڑے کھڑے ادا کئے جاتے ہیں (بخاری کتاب الجنائز باب سنۃ الصلٰوۃ علی الجنائز) اور یہ جنازہ کی نماز میّت کو سامنے رکھ کر پڑھائی جاتی ہے اور یہی وجہ اس میں رکوع اور سجدہ نہ ہونے کی ہے کیونکہ میّت کے سامنے پڑے ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دھوکا لگ سکتا ہے کہ یہ رکوع اور سجدہ اس میّت کو کیا جا رہا ہے اور ایسی لاش جو کسی بزرگ کی ہو اس کا جنازہ پڑھتے ہوئے کئی کمزور طبائع خود بھی اس خیال میں مبتلا ہو سکتی ہیں پس نماز جنازہ سے رکوع اور سجدہ کو اڑا دیا گیا تا شرک کا قلع قمع ہو۔اس نماز کے چار حصے ہوتے ہیں امام قبلہ رو کھڑا ہو کر بلند آواز سے سینہ پر ہاتھ باندھ کر تکبیر کہہ کر اس نماز کو شروع کرتا ہے اس نماز سے پہلے اِقامت نہیں کہی جاتی۔پہلی تکبیر کے بعد منہ میں آہستہ آواز سے امام اور مقتدی اپنے اپنے طور پر سورۂ فاتحہ پڑھتے ہیں اس کے بعد امام پھر بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے اور بغیر رکوع میں جانے کے اسی طرح کھڑے ہوئے منہ میں آہستہ آواز سے درود پڑھتا ہے اور مقتدی بھی اپنے اپنے طور پر ایسا ہی کرتے ہیں اس کے بعد امام پھر تکبیر کہتا ہے اور اسی طرح کھڑے کھڑے میّت کی بخشش کے لئے اگر وہ بالغ ہو دعا کرتا ہے اسی طرح دوسرے مسلمان مردوں عورتوں بڑوں چھوٹوں سب کے لئے عموماً اور میّت کے پسماندگاں کے لئے خصوصاً دعا کرتا ہے اور مقتدی بھی یہی کام کرتے ہیں میّت نابالغ ہو تو اس کے ماں باپ کے صبر اور نعم البدل کے لئے دعا کی جاتی ہے اور اس امر کے لئے کہ مرنے والے کو خدا تعالیٰ اس کے رشتہ داروں کے لئے اگلے جہاں میں رحمت اور بخشش کا ذریعہ بنا دے بعض مقررہ دعائوں کے علاوہ اپنے طور پر اپنی زبان میں بھی دعا کی جا سکتی ہے اور کی جاتی ہے۔اس کے بعد امام پھر بلند آواز سے تکبیر کہتااور تھوڑے سے وقفہ کے بعد سلام پھیر کر نماز کو ختم کر دیتا ہے۔نمازِ اِستِسْقَاء بعض اور قسم کی نمازیں بھی اسلام میں ہیں مثلاً استسقاء کی نماز جو قلت باراں اور خطرۂ قحط کے وقت میں پڑھی جاتی ہے کسوف و خسوف کے موقعہ کی نماز۔صلوٰۃِ حاجت صَلوٰۃُ الْحَاجَۃِ یعنی کسی بڑی مصیبت کے دُور ہونے کے لئے یا دُور ہونے پر شکریہ کے طور پر یہ نماز پڑھی جاتی ہے مگر یہ نمازیں چونکہ کبھی کبھی ادا ہوتی ہیں میں ان کے بارہ میں اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتا۔فقہ کی