تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 166
اور مقتدی سورۃ فاتحہ ساتھ ساتھ آہستہ پڑھتے ہیں اور باقی قرا ئَ ت صرف سنتے ہیں باقی حصہ نماز کا امام بھی آہستہ پڑھتا ہے سوائے تکبیروں اور سَمعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ اور آخری سلاموں کے۔ظہر کی نماز میں تمام رکعتوں میں امام آہستہ پڑھتا ہے اور اس کے پیچھے کے نمازی بھی اپنے طور پر سورہ فاتحہ اور قرآن کریم پڑھتے ہیں۔عصر کی نماز بھی اسی طرح ہوتی ہے مغرب کی نماز میں پہلی دو رکعتوں میں امام سورہ فاتحہ بلند پڑھتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے مقتدی آہستہ آہستہ منہ میں سورہ فاتحہ پڑھتے جاتے ہیں سورۂ فاتحہ کے بعد امام قرآن کریم کا کچھ حصہ جب پڑھتا ہے تو مقتدی خاموش اس کے پڑھے ہوئے کو سنتے ہیں خود کچھ نہیں پڑھتے۔آخری رکعت میں امام بھی دل میں سورہ فاتحہ پڑھتا ہے اور مقتدی بھی۔عشاء کی نماز میں بھی پہلی دو رکعتو ںمیں اسی طرح امام بلند آواز سے سورہ فاتحہ اور قرآن کریم کا کچھ اور حصہ پڑھتا ہے اور مقتدی سورہ فاتحہ منہ میں دُہراتے ہیں اورقرآن کریم کا دوسرا حصہ صرف سنتے ہیں مگر آخری دو رکعتوں میں قیام کی حالت میں امام صرف سورہ فاتحہ پڑھتا ہے اور وہ بھی آہستہ آہستہ منہ میں۔اور مقتدی بھی اپنے اپنے طور پر آہستہ آہستہ ہی منہ میں سورہ فاتحہ پڑھتے ہیں تمام نمازو ںمیں باجماعت ہوں تو امام تکبیریں اور سَـمِــعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ رکوع سے کھڑے ہوتے وقت اور نماز کے خاتمہ کے بعد کا سلام بہرحال بلند آواز سے کہتا ہے کیونکہ مقتدیوں کو ساتھ چلانا مدِّنظر ہوتا ہے۔نمازِ وتر ان پانچ فرض نمازوں کے علاوہ ایک نماز وتر کہلاتی ہے اس نماز کی بھی مغرب کی طرح تین رکعتیں ہیں مگر فرق یہ ہے کہ مغرب کی نماز میں پہلے تشہد کے بعد جو تیسری رکعت پڑھی جاتی ہے اس میں سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی زائد تلاوت نہیں کی جاتی لیکن وترکی نماز میں تیسری رکعت میں بھی سورہ فاتحہ کے بعد قرآن کریم کی چند آیات یا کوئی چھوٹی سورۃ پڑھی جاتی ہے (ترمذی کتاب الصلٰوۃ ابواب الوترباب فی ما یقرأ بہ فی الوتر) دوسرا فرق اس میں یہ ہے کہ اس نماز کو مغرب کی نماز کے برخلاف دو حصوں میں بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے یعنی یہ بھی جائز ہے کہ دو رکعتیں پڑھ کر تشہد کے بعد سلام پھیر دیا جائے (نسائی کتاب قیام اللیل و تطوع النہار باب کیف الوتر بثلاث و باب کیف الوتر بواحدۃ وکیف الوتربثلاث) یہ نماز عشاء کے بعد بھی پڑھی جا سکتی ہے اور تہجد کی نماز کے بعد بھی جس کا ذکر آگے آتا ہے۔سنتیں ان نمازوں کے علاوہ کچھ سنتیں ہوتی ہیں یعنی ایسی زائد نماز جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالالتزام ادا فرمایا کرتے تھے اور گو آپؐ ان کو فرض قرار نہ دیتے تھے لیکن ان کی تاکید کرتے رہتے تھے۔صبح کی نماز سے پہلے دو