تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 158 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 158

کے خالص معنوں میں یہ لفظ سورۂ توبہ میں استعمال ہوا ہے وہاں آتا ہے وَصَلِّ عَلَيْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ (التوبة : ۱۰۳) اے رسول! جن سچے مومنوں سے کمزوریاں ہو جائیں تو اُن کےلئے استغفار کر کیونکہ تیرا اُن کے لئے استغفار کرنا ان کی تسلی کا موجب ہوتا ہے۔دعا کے معنوں میں بھی سورۂ توبہ میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے فرماتا ہے وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ يُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ يَتَّخِذُ مَا يُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَيُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِيْ رَحْمَتِهٖ١ؕ (التوبة:۹۹) یعنی چھوٹے دیہات یا جنگلوں میں رہنے والے بعض عرب بھی ایسے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان رکھتے ہیں اور یومِ آخر پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ بھی وہ خرچ کرتے ہیں اُسے اللہ تعالیٰ کے قرب اور رسول کی دعائیں حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں اور خوب سن رکھو کہ ان کا یہ فعل خدا تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک نیّتی اور رسول کی دعائوں کی وجہ سے اُن کو ضرور اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔نماز کے معنو ںمیں جب یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس میں اصطلاحی نماز کے علاوہ یہ امور بھی مدِّنظر ہوتے ہیں کہ نماز دعا ہے اور اس سے دین کا مغز پورا ہوتا ہے اور شریعت کی غرض پوری ہوتی ہے اور اس میں بندہ اپنی کمزوریوں کی معافی کی درخواست اللہ تعالیٰ سے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کو طلب کرتا ہے چنانچہ دوسری جگہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اُتْلُ مَاۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنَ الْكِتٰبِ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ(العنکبوت :۴۶) یعنی قرآن کریم کی تلاوت کر اور نماز باجماعت ادا کر یقینا نماز اُن بُری باتوں سے بھی کہ جو انسان کی ذات سے تعلق رکھتی ہیں اور ان سے بھی کہ جو سوسائٹی پر گراں گزرتی ہیں روکتی ہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ نماز کو ایک رسم کے طو رپر مقرر نہیں کیا گیا بلکہ یہ عبادت اس طرح بنائی گئی ہے کہ اس کا لازمی نتیجہ بدی سے نفرت ہوتا ہے اور اندرونی پاکیزگی اس سے حاصل ہوتی ہے۔نماز کے بدی سے رو کنے کا مطلب یہ الفاظ استعمال فرما کر کہ نماز بدی سے روکتی ہے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ نماز میں یہ ذاتی خوبی ہے کہ وہ بدی سے روکتی ہے۔پس جس شخص کو باوجود نماز پڑھنے کے بدی سے نفرت پیدا نہ ہو اُس کی نماز میں ضرور نقص ہے اور یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ میںاسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ متقی صرف رسمی طور پر نماز نہیں ادا کرتے بلکہ ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ اُن کی نماز کھڑی ہو جائے یعنی وہ اُن کی روحانیت کے لئے بطور سہارے کے بن جائے جس طرح ٹیک اور سہارے جب تک اپنی جگہ پر کھڑے رہیں چھتوں کو کھڑا رکھتے ہیں اسی طرح نماز جب کامل ہو جائے تو متقی کے تقویٰ کو سہارا دے کر اپنی جگہ پر کھڑا رکھتی ہے پس صرف نماز پڑھنے پر تسلی