تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 156 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 156

میں شامل نہ ہوں بلکہ بوجہ جنگ کے ان میں سے صرف ایک حصہ نماز باجماعت میں شامل ہو اور وہ حصہ بھی اپنے ہتھیار اٹھائے رہے۔اس آیت میں اَقَمْتَ لَھُمُ الصَّلٰوۃَ کے الفاظ سے واضح ہو جاتا ہے کہ اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ سے مراد باجماعت نماز ہوتی ہے۔ایک معنے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ کے یہ کئے گئے تھے کہ نماز ہوشیاری اورچستی کی حالت میں ادا کرتے ہیں۔سو ان معنوں پر یہ آیت دلالت کرتی ہے۔فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّيْنَ۠۔الَّذِيْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ (الماعون :۵،۶) یعنی ان نمازیوں پر خدا کا عذاب نازل ہو گا جو اپنی نمازوں میں غفلت برتتے ہیں یعنی نماز تو پڑھتے ہیں مگر اُن کے دلوںمیں پوری رغبت اور ُچستی نہیں ہوتی۔اسی طرح ظاہری ُسستی اور غفلت کی طرف سے اس آیت میں اشارہ کیا ہے وَ لَا يَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى (التوبۃ:۵۴) یعنی وہ جب بھی نماز پڑھتے ہیں اُن پرُسستی اور غفلت غالب ہوتی ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں ہے يٰبَنِيْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف :۲ ۳) یعنی اے مومنو! ہر مسجد کے پاس جاتے ہوئے اپنی زینت کے سامان مکمل کر لیا کرو۔یعنی وضوء کر لیا کرو اور ہوشیار ہو جایا کرو۔اسی طرح فرمایا۔يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ (النساء :۴۴) یعنی اے مومنو !جبکہ تمہارے خیالات پراگندہ ہوں نماز کے قریب مت جائو بلکہ اُسی وقت نماز پڑھو جبکہ تم یہ جانتے ہو کہ تم کیا کہہ رہے ہو یعنی دماغی پراگندگی یا ُسستی کی حالت میں انسان نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور اس کی نماز خراب ہو جاتی ہے ایسی حالت میں نماز پڑھنی چنداں مفید نہیں ہوتی۔اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ خیالات پراگندہ ہوں تو نماز نہیں پڑھنی چاہیے بلکہ یہ مراد ہے کہ خیالات کو پراگندگی سے بچائو اور ذہنی بیداری اور ُ چستی پیدا کرو اور جو باتیں کہ پراگندگی کو پیدا کرنے والی ہیں اُنہیں دُور کرو۔اسی غرض کو پورا کرنے کے لئے اسلام نے حکم دیا ہے کہ نماز سے کچھ عرصہ پہلے اذان ہونی چاہیے جسے سُن کر مسلمانوں کو اپنے کاروبار ترک کر کے نماز کی تیاری شروع کر دینی چاہیے۔اسی طرح یہ کہ نماز سے پہلے وضوء کرنا چاہیے پھر مسجد میں جا کر یا گھر پر سنتیں پڑھنی چاہئیں پھر مسجد میں امام کے انتظار میں ذکر الٰہی کرنا چاہیے۔اِن سب کاموں سے ظاہری اور باطنی ُسستیدُور ہوتی ہے کیونکہ خیالات میں پراگندگی اور سستی اِسی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ دھیان کسی اور طرف ہو۔مگر جو شخص نماز سے پہلے اپنا کاروبار ترک کر دے گا اس کے خیالات جو تجارتی یا دوسرے کاروبار کی وجہ سے یا گھر کے جھگڑوں یا فکروں کی وجہ سے پراگندہ ہو رہے تھے آہستہ آہستہ نماز اور عبادت کی طرف پھر جائیں گے۔پھر مسجد میں جانے اور سنتیں پڑھنے اور ذکرِالٰہی کرنے کی وجہ سے وہ دوسری تمام طرفوں سے ہٹ کر عبادت اور