تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 148

اچھے مقصد کیلئے مید<mark>ان</mark>ِ جنگ میں جاتا ہے تو وہ ایم<mark>ان</mark> بالغیب کا ایک مظاہرہ کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہو گیا تو یہ بھی اچھا ہے لیکن اگر وہ اس کے لئے جدوجہد کرتے ہوئے مر گیا تب بھی اس کا نتیجہ حق اور صداقت کے لئے اچھا نکلے گا۔ایم<mark>ان</mark> بالغیب کے ش<mark>ان</mark>دار نتائج حق یہ ہے کہ جس قدر ش<mark>ان</mark>دار کام ہیں وہ سب ایم<mark>ان</mark> بالغیب کے نتیجہ میں ہی پیدا ہوتے ہیں۔تعلیم، صدقہ، خیرات، غرباء کے اُبھارنے کے لئے کوششیں، ملکی تنظیم سب ایم<mark>ان</mark> بالغیب ہی کی اقسام ہیں۔اگر <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> آئندہ نکلنے والے اچھے نتائج پر جوظاہر نگاہ سے پوشیدہ ہوتے ہیں یقین نہ رکھے تو کبھی ایسی قرب<mark>ان</mark>یاں نہ کر سکے پس متقی کی علامت ایم<mark>ان</mark> بالغیب بتاکر قرآن کریم نے یہ بتایا ہے کہ مومن ضروری دینی امور پر ایم<mark>ان</mark> رکھنے کے علاوہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی قرب<mark>ان</mark>یاں کرتا ہے اور تاجر<mark>ان</mark>ہ ذہنیت سے بالا ہو جاتا ہے اور اس امر پر اصرار نہیں کرتا کہ میں وہی کام کروں گا جن کا نقد بہ نقد نتیجہ نکلے بلکہ جب اُسے یقین ہو جائے کہ جو کام اس کے سامنے پیش کیا گیا ہے اچھا اور نیک ہے تو وہ ظاہری حالات سے بے پروا ہو کر اس یقین سے اس کام کے کرنے میں لگ جاتا ہے کہ خواہ حالات کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہوں نیک کام کا نتیجہ نیک ہی نکلے گا اور اس امر کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ اس نتیجہ کو خود بھی دیکھے گایا نہیں۔اگر کوئی شخص تعصّب سے آزاد ہو کر غور کرے تو ایم<mark>ان</mark> بالغیب کا یہ مفہوم ایسا اہم ہے کہ اس کے ذریعہ سے قرآن کریم نے تمام قومی، ملیّ اور بنی نوع <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> کی ترقی کے لئے قرب<mark>ان</mark>یوں کی بنیاد رکھ دی ہے۔یہ ایم<mark>ان</mark> بالغیب ہی تھا کہ جس نے صحابہ نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم سے وہ قرب<mark>ان</mark>یاں کرائیں جنہوںنے عرب کی ہی نہیں بلکہ سب دنیاکی حالت بدل دی۔اگر وہ تاجر<mark>ان</mark>ہ ذہنیت دکھاتے اور ایم<mark>ان</mark> بالغیب کے ماتحت کام نہ کرتے تو دنیا میں ایسے ش<mark>ان</mark>دار نتائج کس طرح پیدا ہو سکتے تھے؟ ایم<mark>ان</mark> بالغیب کے معنی ادنیٰ درجہ کے متقیوں کے لحاظ سے اوپر جو معنے بی<mark>ان</mark> ہوئے ہیں وہ تو ایم<mark>ان</mark> بالغیب کے کامل اور اعلیٰ معنے ہیں۔لیکن ایک معنے اس کے اور بھی ہیں جو ادنیٰ درجہ کے متقیوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ یہ ہیںکہ ادنیٰ درجہ کا تقویٰ یہ ہے کہ <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> ایم<mark>ان</mark> بالغیب رکھے یعنی دلائل عقلیہ کے ساتھ اسے خدا تعالیٰ اور ملائکہ اور بعث بعد الموت پر یقین ہو گو وہ اس مقام پر نہ پہنچا ہو کہ خدا تعالیٰ اُسے حواسِ باطنی کے ساتھ <mark>نظر</mark> آنے لگے۔یہ مقام تقویٰ کا ادنیٰ ہے یعنی اس تقویٰ کی بنیاد صرف دلائل پر ہوتی ہے مشاہدہ پر نہیں ہوتی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا (البقرة : ۲۸۷) یعنی اللہ تعالیٰ کسی <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پر اس کی طاقت سے زیادہ