تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 149
ذمہ واری نہیں رکھتا۔پس ایک انسان جو ابھی تقویٰ کے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا اور اُسے ان امور غیبیہ پر جو ہیں تو یقینی او رقطعی لیکن ہیں انسانی ادراک سے بالا ابھی ایسا ایمان اور یقین پیدا نہیں ہوا جو مشاہدہ کی حد تک پہنچا ہوا ہو اس سے اللہ تعالیٰ اس امر کا مطالبہ نہیں کرتا کہ جب تک اسے مشاہدہ اور تجربہ والا ایمان نصیب نہ ہوا ہو اُسے متقی اور مومن نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اس سے صرف اس قدر مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان دلائل اور براہین پر غور کر کے جو امور غیبیہ کے ثبوت کےلئے اللہ تعالیٰ نے مہیا کئے ہیں ان پر ایمان لے آئے اور یہ امر اس کے متقی ہونے کے لئے ادنیٰ درجہ کے طور پر کافی ہو گا۔اب دیکھو کہ یہ کیسی اعلیٰ درجہ کی تعلیم ہے جو سب مدارج کے انسانوں کی ضرورت کو پورا کر دیتی ہے اور ایسی ہی تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی کہلا سکتی ہے جو سب استعداد کے لوگوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے والی ہو۔یہ ادنیٰ درجہ تقویٰ کا انسان کی نجات محض کے لئے کافی ہے۔ہاں جب وہ اس سے ترقی کرتا ہے تو اُسے ایمان بالغیب کا وہ درجہ میسّر ہو جاتا ہے جو امورِ غیبیہ کو مشاہدہ کے رنگ میں اُس کے سامنے لے آتا ہے۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں بھی اس فرق کو ظاہر کیا گیا ہے۔آپؐ فرماتے ہیں کہ احسان یہ ہے کہ اَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ (مسلم کتاب الایمان با ب الایمان والاسلام والاحسان۔۔۔) یعنی احسان اس کا نام ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کرے کہ گویا روحانی نظروں سے وہ تیرے سامنے موجود ہے اور تو اُسے دیکھتا ہے لیکن اگر یہ درجہ تجھے حاصل نہ ہو تو کم سے کم اس درجہ پر فائز ہو کہ تجھے یقین اور وثوق سے عبادت کے وقت یہ معلوم ہو کہ خدا تعالیٰ تجھے دیکھ رہا ہے۔اس حدیث میں ایمان بالغیب کے ان دونوںدرجوں کو بیان کر دیا گیا ہے اعلیٰ درجہ کو بھی اور ادنیٰ درجہ کو بھی۔غیب بمعنٰی غائب جیسا کہ حلِّ لُغَات میں بتایا گیا ہے ایک معنے غیب کے غائب ہونے کی حالت کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے ایمان بالغیب کے یہ معنے بھی ہیں کہ جب انسان غیب کی حالت میں ہو یعنی لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو تب بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو۔یعنی اس کا ایمان صرف قومی نہ ہو کہ جب اس کے ہم مذہب لوگ اس کے سامنے ہوں تب تو وہ ان عقائد کو تسلیم کرے جو اس کے مذہب نے اس کے سامنے پیش کئے ہیں لیکن جب وہ اپنے لوگوں سے جُدا ہو تو اس کا ایمان کمزور ہو جائے۔غیب کے یہ معنے قرآن کریم میں بھی استعمال ہوئے ہیں مثلاً فرماتا ہے۔اَلَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ (الانبیاء: ۵۰) وہ مومن جو علیحدگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَ لِيَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ يَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَيْبِ (الحدید : ۲۶) یعنی ہم نے جنگ کے سامان اس لئے پیدا کئے ہیں تاکہ ظاہر ہو جائے کہ کون خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کا دل سے مددگار تھا ؟