تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 142
اُسے پانے سے قاصر ہیں لیکن وہ موجود ہے اور ایمانیات میں داخل ہے اس کے حق ہونے پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اس کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کی تصدیق کرتے ہیں (۲) اس زندگی کے بعد کے پیش آنےوالے حالات پر پختہ یقین رکھتے ہیں (۳) نیز اس کے یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ غیبوبتکی حالت میں یعنی علیحدگی میں بھی ایمان رکھتے ہیں اور ان میں منافقوں کی طرح دورنگی نہیں پائی جاتی۔یُقِیْمُوْنَ۔یُقِیْمُوْنَ۔اَقَامَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور قَامَ سے جو اس کا مجرد ہے بنا ہے۔قِیَامٌ (کھڑا ہونا) کا لفظ جُلُوْسٌ(بیٹھ جانے) کا نقیض ہے۔کہتے ہیں۔قَامَ الْاَمْرُ۔اِعْتَدَلَ معاملہ درست ہو گیا۔قَامَ عَلَی الْاَمْرِ۔دَامَ وَ ثَبَتَ۔یعنی کسی چیز پر دوام و ثبات اختیار کیا۔قَامَ الْحَقُّ ظَہَرَ وَ ثَبَتَ حق ظاہر اور ثابت ہو گیا۔اور اَقَامَ السُّوْقُ کے معنے ہیں نَفَقَتْ بازار بارونق ہو گیا۔اور اَقَامَ الصَّلٰوۃَ کے معنے ہیں اَدَامَ فِعْلَہَا نما زپر دوام اختیار کیا۔اَقَامَ لِلصَّلٰوۃِ کے معنے ہیں نَادٰی لَہَا نماز کے لئے تکبیر کہی۔اَقَامَ اللّٰہُ السُّوْقَ۔جَعَلَہَا نَافِقَۃً اللہ تعالیٰ نے برکت دی اور بازار کو بارونق بنا دیا (اقرب) مفردات میں ہے یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ اَیْ یُدِیْمُوْنَ فِعْلَہَا وَیُحَافِظُوْنَ عَلَیْہَا۔نماز کو اس کی شرائط کے مطابق ادا کرتے ہیں اور اس پر دوام اختیار کرتے ہیں۔نیز لکھا ہے اِنَّمَا خُصَّ لَفْظُ الْاِقَامَۃِ تَنْبِیْھًا اَنَّ الْمَقْصُوْدَ مِنْ فِعْلِہَا تَوْفِیَۃُ حُقُوْقِہَا وَ شَرَائِطِہَا۔کہ صَلٰوۃ کے ذکر کے ساتھ اقامت کا لفظ اس لئے لایا گیا ہے تاکہ اس طرف توجہ مبذول کرائی جائے کہ نماز کے حقوق اور شرائط کو پوری طرح ادا کیا جائے نہ کہ صرف ظاہری صورت میں اس کو ادا کر دیا جائے۔لسان میں اَلْقِیَامُ کے معنے اَلْعَزْمُ کے بھی لکھے ہیں یعنی کسی چیز کا پختہ ارادہ کر لینا۔اَلصَّلٰوۃُ۔اَلصَّلٰوۃُ۔صَلَّی سے مشتق ہے اور اس کا وزن فَعْلَۃٌ ہے۔الف وائو سے منقلب ہے۔صَلَّی (یُصَلِّیْ) کے معنے دعا کرنے کے ہیں اور اَلصَّلٰوۃُ کے اصطلاحی معنے عِبَادَۃٌ فِیْہَا رُکُوْعٌ وَسُجُوْدٌ کے ہیں یعنی اس مخصوص طریق سے دعا کرنا جس میں رکوع و سجود ہوتے ہیں جس کو ہماری زبان میں نماز کہتے ہیں۔اس کے علاوہ اس کے اور بھی کئی معانی ہیں جو بے تعلق نہیں بلکہ سب ایک ہی حقیقت کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔چنانچہ اس کے دوسرے معنے مندرجہ ذیل ہیں اَلرَّحْمَۃُ۔رحمت۔اَلدِّیْنُ۔شریعت۔اَ لْاِسْتِغْفَارُ۔بخشش مانگنا۔اَلدُّعَائُ دعا (اقرب) اَلتَّعْظِیْمُ۔بڑائی کا اظہار۔اَلْبَرَکَۃُ۔برکت (تاج) وَالصَّلٰوۃُ مِنَ اللّٰہِ ، اَلرَّحْمَۃُ وَمِنَ الْمَلَآ ئِکَۃِ اَلْاِسْتِغْفَارُ وَمِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، اَلدُّعَائُ۔وَمِنَ الطَّیْرِ وَالْھَوَامِّ، اَلتَّسْبِیْحُ۔اور صَلٰوۃ کا لفظ جب اللہ تعالیٰ کے لئے بولا جائے تو اس کے معنے رحم کرنے کے ہوتے ہیں۔اور جب ملائکہ کےلئے استعمال ہو تو اس وقت اس کے