تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 140
جس مادہ سے بنائی جائے وہ اعلیٰ ہو (۳) اس کی شکل و صورت بھی اعلیٰ درجہ کی ہو (۴) جو نتیجہ اس سے پیدا ہو وہ بھی اعلیٰ درجہ کا ہو۔گویا علت ِ فاعلی‘ علت ِ مادی‘ علت ِ صوری اور علت ِ غائی۔ان چار ِعلتوں کے کمال سے کوئی چیز مکمل ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے ابتدائے قرآن میں ہی اس کے حق میں چاروں علتوں کے مکمل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔الم جس کے معنے ہیں کہ میں اللہ سب سے زیادہ جانتا ہوں علت ِ فاعلی کے مکمل ہونے پر دلالت کرتا ہے کہ اس کا بنانے والا علم میں کامل ہے اور سب سے افضل ہے۔پس ایسی علیم ہستی جس کتاب کو بنائے گی یقینا وہ ان تمام کتب سے افضل ہو گی جو ادنیٰ علم والی ہستیوں کی طرف سے تیار کی جائیں گی۔ذٰلِكَ الْكِتٰبُ یعنی یہی کامل کتاب ہے قرآن کریم کی علتِ مادی کے مکمل ہونے پر دلالت کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ تمام اعلیٰ اور ضروری مطالب اس کتاب میں موجود ہیں۔پس اس کا مادہ بھی دوسری کتب کے مادہ سے اعلیٰ اور مکمل ہے۔لَا رَیْبَ فِیْہِ کہہ کر یہ بتایا کہ قرآن کریم اپنی بے مثل فصیح زبان اور غیر معمولی حفاظت کی وجہ سے اپنی ظاہری شکل میں بھی نہایت اعلیٰ درجہ کا اور محفوظ کلام ہے۔پس اس کی علت صوری بھی تمام دوسری کتب سے مکمل اور اعلیٰ ہے۔پھر هُدًى لِّلْمُتَّقِيْنَ۠کہہ کر بتایا کہ دوسری کتب تو صرف متقی کے درجہ تک پہنچاتی ہیں مگر یہ کتاب متقیوں کو بلند مقامات پر لے جا کر اللہ تعالیٰ سے مکالمہ مخاطبہ کا شرف دلواتی ہے اور اس سے کامل اتحاد پیدا کر دیتی ہے پس اس کی علت غائی بھی دوسری کتب سے افضل اور اکمل ہے۔یہ خلاصہ ہے بانی سلسلہ احمدیہ کی ایک تحریر کا اور جو صاحبِ بصیرت اس پر غور کرے گا وہ ان سب مطالب کو جو اوپر بیان ہوئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ اور مطالب بھی اس لطیف تفسیر میں مخفی پائے گا۔الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا (ان متقیوں کو) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو (کچھ) رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَۙ۰۰۴ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔حَلّ لُغَات۔یُؤْمِنُوْنَ۔یُؤْمِنُوْنَ۔اٰمَنَ سے جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور اٰمَنَـہٗ اِیْمَانًا کے معنی ہیںاَمَّنَہٗ: اس کو امن دیا اور جب اس کا صلہ حرف باء ہو یعنی اٰمَنَ بِہٖ کہیں تو معنے ہوںگے صَدَّقَہٗ وَوَثَّقَ بِہٖ۔اس کی تصدیق کی اور اس پر اعتماد کیا اور جب اٰمَنَ کے بعد لام صلہ ہو یعنی اٰمَنَ لَـہٗ کہیں تو اس کے معنے ہوںگے