تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 139

قرآن کریم جبر کے خلاف ہے۔خلاصہ یہ کہ اوپر کی تعریف کے رُو سے اس آیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ جو لوگ صداقت کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوں قرآن کریم ان کو ہدایت دیتا ہے اور اعلیٰ مدارج تک پہنچاتا ہے۔او رجو لوگ ہدایت کو ماننے کےلئے تیار ہی نہ ہوں وہ گویا اپنی ہلاکت کا خود ہی فیصلہ کر دیتے ہیں اور انہیں ہدایت جبر ہی سے دی جا سکتی ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ جبر سے جو ہدایت ملے اس کا فائدہ جبر کرنے والے کو حاصل ہو سکتا ہے اسے نہیں ہو سکتا جسے ہدایت دی جائے۔جیسے مثلاً کسی سے زبردستی مال چھین کر صدقہ کر دیا جائے تو اس صدقہ کا کوئی فائدہ اُسے نہیں مل سکتا جو صدقہ کا قائل ہی نہیں اور صدقہ دینا ہی نہیں چاہتا۔دوسری کتب کی موجودگی میں قرآن مجید کی ضرورت خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں دوسری کتب کی موجودگی میں قرآن کریم کی ضرورت کو بیان کیا گیا ہے اور بتایا ہے کہ غیر الہامی کتب کی موجودگی میں تو اس کی یہ ضرورت ہے کہ بغیر آسمانی ہدایت کے انسان ہدایت پا ہی نہیں سکتا۔اس لئے آسمانی ہدایت کی ضرورت تھی جسے قرآن کریم نے پورا کیا ہے اور الہامی کتب کی موجودگی میں اس کی یہ ضرورت ہے کہ (۱) اس سے پہلے سب ہدایت نامے نامکمل تھے یہ مکمل ہے (۲) ان میں خرابیاں پیدا ہو گئی ہیں اور یہ سب خرابیوں سے محفوظ ہے (۳) وہ سب ہدایت نامے ایک ایک قوم اور مذہب کے لئے تھے اور یہ ہدایت نامہ سب قوموں کے لئے ہے اور سب قوموں کے بزرگوں کی عزت قائم کرنے اور سب ضائع شدہ ہدایتو ںکو زندہ کرنے کے لئے آیا ہے (۴) ان کتب میں بوجہ اندرونی بیرونی نقائص کے وصال الٰہی پیدا کرنےکی خاصیت باقی نہ رہی تھی اب اس کے ذریعہ سے پھر انسان کو وصالِ الٰہی حاصل کرنے او رکلام الٰہی سے مشرف ہونے کا موقعہ دیا جائے گا وغیرہا وغیرہا۔اس چھوٹی سی آیت میں اس قدر وسیع مطالب کا بیان ہونا قرآن کریم کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس کی مثال پیش کرنے سے دوسری کتب قاصر ہیں۔ہر شے کی تکمیل کے لئےچار علل کی تکمیل اور ان کا بیان قرآن مجید میں مذکورہ بالا مضمون بانی ٔ سلسلہ احمدیہ علیہ السلام کے بتائے ہوئے مطالب کی روشنی اور ہدایت میں لکھے گئے ہیں۔لیکن بطور مثال میں اُن بے شمار مطالب سے جو اُن کی کتب میں پائے جاتے ہیں ایک نکتہ براہِ راست بھی ان کی طرف سے اس جگہ بیان کر دیتا ہوں۔تا معلوم ہو کہ کس طرح انہوںنے اس آیت کے عمیق سمندر میں سے روحانیت کے موتی نکالے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ ہر شے کی تکمیل کے لئے چار علل کی تکمیل ضروری ہوتی ہے یعنی (۱) اس کے بنانے والا کامل ہو (۲) وہ