تفسیر کبیر (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 657

تفسیر کبیر (جلد ۱) — Page 138

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا (بنی اسرائیل:۴۲) یعنی قرآن کریم میں تمام ضروری امور ہدایت مختلف پیرایوں میں بیان کئے گئے ہیں تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فائدہ اٹھائیں۔اس جگہ بھی متقیوں یا مومنوں کے لئے ہدایت کو مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ تمام انسانوں کے لئے اسے پیش کیاگیا۔قرآن کریم کی متعدد آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ تقویٰ کی راہیں بھی قرآن کریم نے تمام انسانوں کے لئے بیان کی ہیں چنانچہ فرماتا ہے۔يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرة:۲۲) یعنی اے انسانو! (نہ کہ مومنو یا مسلمانو) اپنے اس رب کی جس نے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو پیدا کیا ہے عبادت کرو تاکہ تم متقی بنو۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا وَّ صَرَّفْنَا فِيْهِ مِنَ الْوَعِيْدِ لَعَلَّهُمْ يَتَّقُوْنَ (طٰہٰ :۱۱۴) یعنی قرآن کریم کو ہم نے عربی زبان میں اُتارا ہے اور اس میں تمام عذاب کی خبریں بھی بیان کی گئی ہیں تاکہ جو مومن نہیں وہ بھی متقی ہو جائیں۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن کریم کافروں کو بھی متقی بناتا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر اس جگہ یہ کیوں فرمایا کہ قرآن کریم متقیوں کے لئے ہدایت ہے یہ کیوں نہ فرمایا کہ قرآن کریم تقویٰ پیدا کرتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ قرآن کریم کی افضلیت کا ذکر ہے یعنی یہ بیان ہے کہ دوسری کتب کی موجودگی میں اس کتاب کی کیا ضرورت ہے۔پس اس مضمون کے لحاظ سے ان اعلیٰ مقامات کے حصول کا ذکر ہی مناسب اور درست تھا جن میں قرآن کریم منفرد ہے او رجس میں اس کا مقابلہ کرنے کا دوسرے مذاہب کو دعویٰ تک بھی نہیں۔اس جواب کے علاوہ اس اعتراض کا ایک اور بھی جواب ہے اور وہ یہ کہ قرآن کریم میں تقویٰ کی ایک اور بھی تعریف بیان کی گئی ہے اور اس تعریف کے رُو سے تقویٰ کا تعلق انسانی فطرت سے ہے نہ کہ مذہب سے۔چنانچہ سورہ شمس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا(الشّمس:۹)۔ہر انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک امتیازی قابلیت بخشی ہے جس کے ذریعہ سے وہ بُرے اور بھلے میں تمیز کرتا ہے۔یہ قابلیت مسلمان یا غیر مسلمان کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی بلکہ ہر انسان میں پیدا کی گئی ہے۔پس اس تعریف کے مطابق تقویٰ کے معنے فطرت کی حفاظت کے ہیں نہ کسی خاص مذہب یا عقیدہ کے۔اور یہ ظاہر ہے کہ ہدایت وہی لوگ پا سکتے ہیں جو فطرت کو گندے اثرات سے پاک رکھتے ہیں ورنہ جو لوگ فطرت کو پاک رکھنے کی کوشش نہیں کرتے اور صداقت کے ماننے سے انکار کرتے ہیں وہ ہدایت نہیں پا سکتے ان کو ہدایت تبھی مل سکتی ہے جب جبر سے کام لیا جائے۔اور